اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا کورونا کے حوالے سے رویہ غیر مناسب ہے، وفاقی وزیر اسد عمر کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں لوگ تعاون نہیں کر رہے، حکومت مکمل لاک ڈائون کے حق میں نہیں ہے، سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی جائے گی تاکہ کاروبار بھی متاثر نہ ہو اور عوام کی صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے، اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا کورونا کے حوالے سے …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں لوگ تعاون نہیں کر رہے، حکومت مکمل لاک ڈائون کے حق میں نہیں ہے، سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی جائے گی تاکہ کاروبار بھی متاثر نہ ہو اور عوام کی صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے، اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا کورونا کے حوالے سے رویہ غیر مناسب ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران لوگوں نے اپنے رویہ میں تبدیلی لائی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کیا اس لئے نقصان کم ہوا تھا، اب لوگ احتیاط نہیں کر رہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ انہیں کورونا سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران سیاسی، سماجی اور دینی رہنما ایک پیج پر تھےجبکہ اب ایسا نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے اپوزیشن سخت لاک ڈائون کا مطالبہ کرتی تھی اور اب این سی او سی کی ہدایات عمل نہیں کر رہی، گوجرانوالہ، کراچی، پشاوراور کوئٹہ میں ہونے والے جلسوں کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی کی جانب سے وسط نومبر میں جلسے اور اجتماعات پر پابندی لگانے کا کہا گیا، این سی سی فیصلوں کے مطابق 300 افراد سے زائد اجتماعات کی اجازت نہیں، عدالت نے بھی این سی سی فیصلوں پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قائدین کا کورونا کے حوالے سے رویہ غیر مناسب ہے، سیاسی رہنماءاگر یہ کہیں کہ کورونا سے کوئی خطرہ نہیں ہے تو یہ زیادہ خطرناک بات ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے خلاف ورزی پر زیادہ سختی نہیں کی جا سکتی، 22 کروڑ عوام کو زبردستی یا ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرایا جا سکتا، ان کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا اور شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ کورونا واقعی ان کے لئے خطرناک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ویکسین کے حوالے سے کل اجازت دی ہے، پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو ویکسین دی جائے گی، آئندہ سال جنوری سے مارچ کے دوران ملک میں ویکسین آ جائے گی۔ اپوزیشن کے جلسوں کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ سیاسی سوچ کے مطابق ان کو جلسوں سے نہیں روکنا چاہیے لیکن کورونا کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، عوام کی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپوزیشن جماعتوں کو جلسے نہیں کرنے چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیل پرویز مشرف کے دور میں منافع میں تھی، پاکستان سٹیل زرداری دور میں خسارے میں گئی، نواز شریف دور میں ڈھائی سال بعد پاکستان سٹیل بند ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اب عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے، نواز شریف کو واپس لانے کے لئے قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف کے معاملے پر بھی اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، فیٹف قانون سازی میں 34 ترامیم پر اپوزیشن کے ساتھ معاملات خراب ہوئے، حکومت کسی صورت اپوزیشن کی 34 ترامیم ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے ہمارے دروازے کھلے ہیں کبھی بند نہیں کئے، اپوزیشن کورونا معاملے پر بیٹھنے کو تیار نہیں تو دیگر معاملات پر کیسے بیٹھے گی، حکومت کوئی این آر او نہیں دے گی، احتساب کے عمل کے علاوہ باقی معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کی سیاسی ضروریات مختلف ہیں، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں تقسیم کا شکار ہیں، پی ڈی ایم میں موجود جماعتیں نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ اتفاق نہیں کرتیں۔