اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری، 2025 پاکستانی معیشت کے استحکام اور بحالی کا سال رہا

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):پاکستانی معیشت کے لیے 2025 استحکام، بحالی اور اعتماد کی واپسی کا سال ثابت ہوا ہے جس کے دوران ملک کے تقریباً تمام کلیدی معاشی اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی، سٹاک مارکیٹ نے تاریخی تیزی دکھائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا، ترسیلات زر بلند سطح پر رہیں جبکہ عالمی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی معاشی سمت کو …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):پاکستانی معیشت کے لیے 2025 استحکام، بحالی اور اعتماد کی واپسی کا سال ثابت ہوا ہے جس کے دوران ملک کے تقریباً تمام کلیدی معاشی اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی، سٹاک مارکیٹ نے تاریخی تیزی دکھائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا، ترسیلات زر بلند سطح پر رہیں جبکہ عالمی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی معاشی سمت کو درست قرار دیا۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم وضبط کے قیام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نیتجہ میں حساباتِ جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ ہدف کے قریب رہا، مالی سال کے پہلے 5ماہ میں یہ خسارہ 812 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 503 ملین ڈالر فاضل تھا۔

تاہم نومبر کے مہینے میں صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی اور 100 ملین ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو اکتوبر میں 291 ملین ڈالر خسارے میں تھا۔ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں اشیا ءکے تجارتی خسارے میں 30.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 12.769 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ خسارہ 9.799 ارب ڈالر تھا۔ اسی عرصے میں اشیا ءکی برآمدات 3 فیصد کمی کے ساتھ 12.790 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہو کر 25.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ نومبر میں اشیاء کی برآمدات 2.273 ارب ڈالر اور درآمدات 4.727 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، اس کے برعکس خدمات کے شعبے نے مثبت کارکردگی دکھائی۔ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں خدمات کی برآمدات سے 3.832 ارب ڈالر حاصل ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ خدمات کی درآمدات 5.148 ارب ڈالر رہیں۔ اسی مدت میں پرائمری بیلنس 3.829 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

2025کے دوران سمندرپارپاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرمیں اضافہ کارحجان برقراررہا جس سے معاشی واقتصادی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات پرسمندرپارپاکستانیوں کے اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے، سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زرقومی معیشت کے لیے مضبوط سہارا ثابت ہوئیں۔ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران ترسیلات زر میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا اور ترسیلات زرکامجموعی حجم 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ نومبر میں ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر رہیں، جن میں سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا سے موصول ہوئیں۔ 2025 کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 4.614 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ دسمبر کے وسط تک زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 21.023 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اس میں سٹیٹ بینک کے ذخائر 15.902 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.120 ارب ڈالر شامل ہیں۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے 1.56 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

زرعی شعبے نے 2.9 فیصد، صنعتی شعبے نے 9.4 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے نے 2.4 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ مالیاتی و انشورنس سرگرمیوں، رئیل اسٹیٹ، تعلیم، صحت اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں بھی نمایاں نمو ریکارڈ کی گئی۔معاشی نمو اوراستحکام کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات پرعالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ایشیائی ترقیاتی بینک اورکریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسیوں نے اپنے اعتمادکااظہارکیا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے توسیعی فنڈ سہولت اورریزلینٹ فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کیلئے بالترتیب دوسری اورپہلی قسط جاری کی، اس موقع پرجاری ہونے والے بیان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے معیشت کے استحکام اورآئی ایم ایف پروگرام کیلئے پاکستانی اہداف پراپنے اعتمادکااظہاربھی کیا۔

کریڈٹ ریٹنگ کی تین اہم بین الاقوامی ایجنسیوں نے پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی، ڈی اینڈ بی پاکستان اور گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق ملک میں صارفین کے اعتماد میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافہ ہو ۔ سروے میں مستقبل کے حوالے سے اعتماد کا اشاریہ 98.2 پوائنٹس رہا، جبکہ نوجوانوں میں معاشی بہتری کے حوالے سے خوش امیدی سب سے زیادہ دیکھی گئی۔سال2025پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کیلئے بھی بہترین سال رہا، کلی معیشت کے استحکام اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1 لاکھ 74 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ رواں سال کے دوران مارکیٹ نے 48 فیصد ریٹرن دیا۔ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 16 نئے آئی پی اوز متوقع ہیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے،

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق موسم گرما میں سیلاب کے باوجود پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں 5.7 فیصد نمو حاصل کی، جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں مہنگائی کم ہو کر 4.7 فیصد پر آ گئی ہے۔سال کے دوران حکومت نے صنعت اورزراعت کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کئے، حکومت نے زرخیز ای کے نام سے ایک انقلابی زرعی مالیاتی پروگرام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے 93 فیصد چھوٹے کسانوں کو بلا ضمانت ڈیجیٹل قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کے ذریعے آئندہ تین برسوں میں دیہی معیشت میں 300 ارب روپے کا بہائو متوقع ہے، جس سے غربت میں کمی، زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل درآمدمیں نمایاں پیش رفت ہوئی، ایف بی آرمیں اصلاحات کے عمل کے نتیجہ میں محصولات میں بہتری آئی جبکہ ٹیکس لیکجز کے محاذ پربھی پیش رفت ہوئی، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کاعمل مکمل ہواجبکہ قومی ائیرلائینزپی آئی اے کے 75فیصدحصص کامیابی کے ساتھ فروخت ہوئے اس عمل سے پی آئی اے کواپنے عظمت رفتہ کی بحالی میں مددملے گی۔ مجموعی طور پر سال 2025 میں پاکستان کی معیشت نے استحکام، اعتماد اور تدریجی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، جس کے ثمرات آئندہ ماہ وسال میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔