ایران کی حکومت نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم کارروائی کریں گے ، امریکا

واشنگٹن۔10جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت بڑی مصیبت میں ہے، اگر اُنھوں نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم اسے اتنی شدت سے ماریں گے کہ بہت تکلیف ہو گی ۔بی بی سی کے مطابق ایران میں ملک گیر مظاہروں پر اپنے تازہ ردعمل میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم کارروائی …

واشنگٹن۔10جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت بڑی مصیبت میں ہے، اگر اُنھوں نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم اسے اتنی شدت سے ماریں گے کہ بہت تکلیف ہو گی ۔بی بی سی کے مطابق ایران میں ملک گیر مظاہروں پر اپنے تازہ ردعمل میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت نے اپنے شہریوں کو مارا تو ہم کارروائی کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اُنھوں نے ماضی کی طرح اپنے لوگوں کو مارنا شروع کیا تو ہم کارروائی کریں گے، ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی، اس کا مطلب فوجی موجودگی نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم انہیں پوری شدت سے ماریں گے، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے مفادات کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کے دو اداروں کے مطابق 28 دسمبر کو احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ایران میں اب تک کم از کم 48 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایرانی حکام نے اب تک سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مظاہرین ملک میں کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھیں چند شرپسندوں کا گروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں امریکا پر ایران میں بدامنی اور پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا دھمکیوں، لوگوں کو اکسا کر، جان بوجھ کر تشدد کی حوصلہ افزائی اور امن و استحکام میں خلل ڈال کر ایران میں مداخلت کررہا ہے۔

انہوں نے امریکی رویے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی بھی مذمت کی ۔ امریکا نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ان بیانات کو، جن میں انھوں نے اسرائیل اور واشنگٹن پر مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھاتوہمات قرار دیا ہے۔امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے لبنان کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات عوامی رائے عامہ کو ان بڑے چیلنجوں سے ہٹانے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں جن کا ایرانی حکومت کو مقامی طور پر سامنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ایران میں حالیہ احتجاج لبنان کے احتجاج سے مشابہ ہے جو ان کے بقول دونوں ہی کرنسی کے نرخوں کے ردِعمل میں ہوئے ہیں،

تاہم انھوں نے کہا کہ ان میں فرق یہ ہے کہ ایران کے معاملے میں امریکا اور اسرائیل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ان ہنگاموں میں ملوث ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ان پُرامن احتجاجات کو تشدد کی طرف دھکیلیں۔ دریں اثنا ،کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ایرانی ریاست کی جانب سے مظاہرین کو ہلاک کرنے، تشدد کے استعمال، گرفتاریوں اور اپنی ہی عوام کو ڈرانے کے لیے مختلف حربوں کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ان کا ملک ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی پکار سننے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ آزادی اور وقار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں ایرانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔دریں اثنا اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کو اسرائیل میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں