ایف آئی اے کا 104.75 ملین روپے کا آئیسکو رشوت کیس، پانچ افراد کو 17 سال قید کی سزا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 104.75 ملین روپے رشوت کیس میں 5 اہلکاروں کو 17 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، خصوصی عدالت نے برآمد شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا

اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 104.75 ملین روپے رشوت کیس میں 5 اہلکاروں کو 17 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، خصوصی عدالت نے برآمد شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ یہ کیس 30 اگست 2024 کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے کامیاب چھاپے سے شروع ہوا جس کے دوران آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس افسران اور دو آڈٹ افسران کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔اہلکار نے بتایا کہ ملزمان سے 104.75 ملین روپے برآمد کیے گئے جو کہ مبینہ طور پر 2019 سے 2024 تک کے عرصے کے لیے سازگار آڈٹ رپورٹس تیار کرنے کے عوض بیرونی آڈٹ افسران کو رشوت کے طور پر ادا کیے گئے۔چھاپے کے بعد ایف آئی آر نمبر 153/2024 پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 161، 162، 163 اور 109 کے ساتھ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے ساتھ درج کی گئی۔17 جولائی 2026 کو سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی عبدالرحمان محمد عارف نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد ذیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو 17، 17 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ برآمد شدہ 104.75 ملین روپے ضبط کر کے حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع کرائے جائیں۔اہلکار نے کہا کہ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے پیشہ ورانہ تفتیش اور موثر استغاثہ کے ذریعے سزا ممکن ہوئی۔ کیس کی تفتیش کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زوہیب نیازی اور پراسیکیوشن کی نمائندگی کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین نے تاریخی سزا کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔