ایف پی سی سی آئی کا ایکسپورٹ ری فنانس فیسیلیٹی میں3 فیصد کمی کا خیرمقدم

لاہور۔12فروری (اے پی پی):صدرفیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے بینکاری شعبے کے اس رضاکارانہ فیصلے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ایکسپورٹ ری فنانس فیسلٹی (ERF) کی شرح میں 3 فیصد کمی کر کے اسے 4.50 فیصد کی مسابقتی سطح پر لایا گیا ہے۔ جمعرات کے روزاپنے ایک بیان میں انہوں نے فیڈریشن کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ برآمدات پر …

لاہور۔12فروری (اے پی پی):صدرفیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے بینکاری شعبے کے اس رضاکارانہ فیصلے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ایکسپورٹ ری فنانس فیسلٹی (ERF) کی شرح میں 3 فیصد کمی کر کے اسے 4.50 فیصد کی مسابقتی سطح پر لایا گیا ہے۔ جمعرات کے روزاپنے ایک بیان میں انہوں نے فیڈریشن کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی ہی ملک کے لیے واحد قابلِ عمل، پائیدار اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے اس اقدام کو برآمدات سے وابستہ صنعتوں کے لیے بروقت ریلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سرمایہ کی لاگت کو معقول بنانے اور کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی سے متعلق ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ مطالبے کو موثر انداز میں پورا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سہولت اس وقت 1,052 ارب روپے کی موجودہ ERF حد کے تابع ہے تاہم یہ حد بنیادی طور پر لچکدار اور جون 2027 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) یا ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank) کی جانب سے ضرورت کے مطابق بڑھائی جا سکتی ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ 300 بیسس پوائنٹس کی یہ کمی محض مالیاتی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ ہماری مینوفیکچرنگ اور برآمدی صنعت کے لیے مسابقت میں براہِ راست بہتری ہے۔4.50 فیصد کی نئی شرح کے ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان اب بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے علاقائی حریفوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے جہاں طویل عرصے سے سنگل ڈیجٹ اور مسابقتی فنانسنگ کم لاگت دستیاب رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب نجی شعبہ حکومتی ویژن کے تحت مضبوط معاشی بحالی اور برآمدی نمو کے لیے پرعزم ہے،شرح میں یہ کمی صنعتی قرضوں کی دستیابی کو بہتر کرے گی۔