فیصل آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):ڈویژنل ڈائریکٹرمحکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل آباد ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہاکہ لائیو سٹاک فارمز کی سطح پراینیمل جنیٹک ریسورس غذائی استحکام، پائیدار ترقی، کروڑوں انسانوں کی گوشت، دودھ، خوراک کی ضروریات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اینیمل بریڈنگ اینڈ جنیٹکس کے شعبہ جات کے اشتراک سے مقامی نسل کی گائے، بھینسوں، بھیڑ بکریوں، مرغیوں کی نئی اقسام …
اینیمل جنیٹک ریسورس غذائی استحکام، پائیدارترقی،انسانوں کی گوشت اوردودھ کی ضروریات کےحوالےسےانتہائی اہمیت کا حامل ہے،ڈائریکٹرلائیوسٹاک
فیصل آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):ڈویژنل ڈائریکٹرمحکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل آباد ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہاکہ لائیو سٹاک فارمز کی سطح پراینیمل جنیٹک ریسورس غذائی استحکام، پائیدار ترقی، کروڑوں انسانوں کی گوشت، دودھ، خوراک کی ضروریات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اینیمل بریڈنگ اینڈ جنیٹکس کے شعبہ جات کے اشتراک سے مقامی نسل کی گائے، بھینسوں، بھیڑ بکریوں، مرغیوں کی نئی اقسام دریافت کرنے اور پیداواریت کا عنصر پروان چڑھانے کے حوالے سے بتایا کہ قدرت نے ہمیں جن متنوع موسمی و جغرافیائی وسائل سے نوازا ہے اس کے تناظر میں یہاں دنیا کی بہترین اقسام کے جانوروں کو پروان چڑھانے میں مدد لی جا سکتی ہے جبکہ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ مقامی مختلف النسل جانوروں کی خصوصیات جینیاتی ذرائع سے منتقل کر کے غذائی استحکام کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے والے بے زمین کسانوں کے ذرائع آمدن میں بھی اضافہ کیا جائے۔
اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ دودھیل اور گوشت کے حوالے سے جا نوروں کی مختلف اقسام اپنے اندر منفرد خصوصیات رکھتی ہیں جن کو جینیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے پر وان چڑھا کر مستقبل کی ضروریات کو بآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے ملک میں گوشت اور اون کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث لائیو سٹاک فارمرز اور دیہاتیوں و کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ زیادہ گوشت اور اچھی اون کیلئے بھیڑوں کی علاقائی نسلیں پالنے کو ترجیح دیں اور اس سلسلہ میں محکمہ لائیو سٹاک کے فیلڈ سٹاف کی مشاورت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کر سکیں نیز انہوں نے لائیو سٹاک فارمرز کو ہدایت کی کہ بھیڑوں کے باڑے کو سطح زمین سے 2فٹ اونچا رکھیں
، بھیڑوں کو کرم کش ادویات ہر 4ماہ بعد پلوائی جائیں اور اون کی کترائی موسم بہار اور موسم خزاں میں سال میں 2بار کروائی جائے۔انہوں نے کہا کہ بھیڑوں بکریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے محکمہ کی ہدایات کے مطابق حفاظتی ٹیکے لگوائیں جائیں اور حاملہ بھیڑوں کو آخری ماہ میں ریوڑ سے الگ کر کے انہیں زود ہضم غذا کی فراہمی کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔ اس ضمن میں ایک فری ہیلپ لائن بھی قائم ہے لہٰذا لائیو سٹاک فارمرز یا دیگر سٹیک ہولڈرز صبح 9تاشام5بجے تک مذکورہ ہیلپ لائن پر مفت رابطہ کر سکتے ہیں۔









