این ڈی ایم ایس نے پورٹ قاسم پر ڈریجنگ آپریشنز کا آغاز کر دیا

نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) نے باضابطہ طور پر پورٹ قاسم پر ڈریجنگ آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی سطح پر بندرگاہوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) نے باضابطہ طور پر پورٹ قاسم پر ڈریجنگ آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی سطح پر بندرگاہوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی ) سےجاری پریس ریلز کے مطابق ڈریجنگ آپریشنز کی افتتاحی تقریب پورٹ قاسم میں منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل سید معظم الیاس (ر) مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ ٹرمینلز کے اعلیٰ حکام اور پاکستان کسٹمز کے افسران نے بھی شرکت کی۔مقامی ڈریجنگ صلاحیت کا حصول پاکستان کی بلیو اکانومی کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم ہوگا بلکہ زرمبادلہ کی مد میں نمایاں بچت بھی ممکن ہو سکے گی، جبکہ اہم بحری امور میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔ماہرین کے مطابق بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت ممکن ہونے سے مستقبل میں ملک کی درآمدات و برآمدات کے شعبے میں نمایاں اضافہ ہوگا۔این ڈی ایم ایس جدید، مؤثر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈریجنگ سلوشنز کے ذریعے پورٹ قاسم میں نیویگیشن کی مطلوبہ گہرائی اور بندرگاہ کی بلا تعطل فعالیت کو یقینی بنائے گا۔ کمپنی مستقبل میں بین الاقوامی بندرگاہوں تک اپنی خدمات توسیع دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جبکہ یہ آپریشنز بندرگاہوں کی توسیع میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔،

ڈریجنگ بندرگاہوں کی مؤثر اور بلا تعطل کارکردگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے تاہم پاکستان میں مقامی ڈریجنگ صلاحیت نہ ہونے کے باعث 1980 کے بعد ملکی بندرگاہوں پر کیپیٹل ڈریجنگ نہیں کی جا سکی، جس کے نتیجے میں بندرگاہیں بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہ کر سکیں۔اسی وجہ سے ڈریجنگ کے کام کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کرنا پڑا، جس سے قیمتی زرمبادلہ کا بڑا حصہ بیرون ملک منتقل ہوتا رہا۔

حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) کمپنی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ یہ ادارہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی)، کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) اور گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔ یہ شراکت داری قومی سطح پر ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور بحری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی مشترکہ کوشش کی عکاس ہے۔

 

مزید خبریں