اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ایوان بالا نے فرانس میں آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں پر مسلسل حملوں اور اسلامو فوبیا کا نوٹس لیتے ہوئے نبی کریم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے اقدامات کرے تاکہ پر امن بقائے باہمی اور مذہبی و بین المذاہب …
ایوان بالا کی فرانس میں آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں پر مسلسل حملوں اور اسلامو فوبیا کےخلاف قراردادمنظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ایوان بالا نے فرانس میں آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں پر مسلسل حملوں اور اسلامو فوبیا کا نوٹس لیتے ہوئے نبی کریم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے اقدامات کرے تاکہ پر امن بقائے باہمی اور مذہبی و بین المذاہب ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے، وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہاسلامو فوبیا سے دنیا کے امن کو خطرہ ہے اور پر امن بقائے باہمی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس ایوان کے بھی یہی جذبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ اس حوالے سے رولز معطل کرنے کی تحریک لے آئیں، کشمیر کے حوالے سے بھی قرارداد آنی ہے، ارکان اس حوالے سے قرارداد لانا چاہتے ہیں، یہ سب کا مشترکہ معاملہ ہے۔ بعد ازاں سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے رولز معطل کرنے کی تحریک پیش کی جس کی چیئرمین نے منظوری دیدی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی اور دیگر ارکان کی طرف سے مشترکہ قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان اسلام اور مسلمانوں پر آزادی اظہار رائے کے نام پر ہونے والے حملوں اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سینیٹ آف پاکستان ان واقعات اور نبی کریم کی ناموس پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس طرح کے قابل مذمت اقدامات بالخصوص جبکہ حکومتوں کی طرف سے ان ارتکاب کیا جائے نہایت خطرناک اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین تقسیم کو مزید بڑھاوا دینے والے ہیں۔ قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حضور نبی کریم کے ساتھ ہماری وابستگی ہر چیز سے بالاتر اور ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس طرح کے حملوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ قراداد میں پاکستان کے عوام اور مسلم امہ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا گیا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کو اس طرح کے واقعات پر گہری تشویش ہے اور مسلم دنیا میں اس کے خلاف شدید ردعمل ہے اور مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ قرارداد میں دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمان اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے فریم ورک اور طریقہ کار وضع کریں تاکہ پر امن بقائے باہمی اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیئرمین نے قرارداد پر ایوان کی رائے حاصل کی۔ ایوان بالا نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دیدی۔ چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی قرارداد کی کاپی متعلقہ سفیر تک پہنچائی جائے۔








