ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران بی آئی ایس پی میں خالی آسامیوں، بجٹ اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بحث

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں خالی آسامیوں، بجٹ اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بحث ہوئی۔سینیٹر جان محمد نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کا بجٹ 716 ارب روپے ہے، تاہم ادارے کی 80 فیصد آسامیاں خالی پڑی ہیں، جو کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔اس پر …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں خالی آسامیوں، بجٹ اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بحث ہوئی۔سینیٹر جان محمد نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کا بجٹ 716 ارب روپے ہے، تاہم ادارے کی 80 فیصد آسامیاں خالی پڑی ہیں، جو کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔اس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں کل 3486 آسامیاں منظور شدہ ہیں، جن میں سے تقریباً 1200 آسامیاں خالی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تعیناتی کے لیے وزارتِ خزانہ پاکستان کو خط لکھ دیا گیا ہے اور منظوری ملتے ہی خالی آسامیوں پر بھرتیاں مکمل کر لی جائیں گی۔وزیر نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی نے فنڈز کی تقسیم کے لیے ڈیجیٹل وائلٹ سکیم متعارف کرا دی ہے، جس سے نظام میں شفافیت بڑھے گی اور کام میں آسانی آئے گی۔ تاہم بھرتیوں کے معاملے کو موجودہ حالات کے تناظر میں دوبارہ دیکھنا پڑے گا۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں شامل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمل کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نےکہا کہ گزشتہ بارہ سالوں میں بی آئی ایس پی میں بھرتیاں نہیں ہوئی ہیں جس میں متعلقہ وزارتیں اور سابقہ حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بلوچستان میں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی ادائیگیاں مسلسل تسلی بخش رہی ہیں اور ادائیگی کی مجموعی کارکردگی دیگر صوبوں کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی، رابطہ جاتی اور عملی نوعیت کے چیلنجز کے باوجود بلوچستان میں ادائیگیوں کی شرح قومی اوسط سے زائد رہی، جو پروگرام کی مؤثر عملداری کا واضح ثبوت ہے۔

سید عمران احمد شاہ کے مطابق یہ کامیابی بی آئی ایس پی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر اور صوبائی دفتر کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور مربوط کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے بروقت اور شفاف ادائیگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے اہل افراد کو بروقت معلومات اور معاونت فراہم کی جاتی ہے، جن میں بے نظیر کفالت پروگرام، بے نظیر وسیلۂ تعلیم اور بے نظیر نشوونما پروگرام شامل ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد غربت میں کمی، انسانی ترقی کا فروغ اور کمزور طبقات کی مؤثر معاونت ہے۔پریزائیڈنگ آفیسر نے بی آئی ایس پی میں خالی آسامیوں کا معاملہ مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ سینیٹ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔