اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اے پی پی میں کوئی مستقل بھرتی نہیں ہوئی ، پیشہ وارانہ ضروریات پوری کرنے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے عین مطابق عارضی بھرتیاں ہوئیں، یہ بھرتیاں منظور شدہ آسامیوں کے اندر رہتے ہوئے کی گئیں۔ وہ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ …
اے پی پی میں کوئی مستقل بھرتی نہیں ہوئی، پیشہ ورانہ ضروریات پوری کرنے کےلئے تفویض اختیارات کے تحت عارضی ملازم رکھے ، بجٹ اورمنظور شدہ آسامیوں کے اندر رہتے ہوئے یہ خالصتاً عارضی بھرتی تھی ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدر ی کا ایوان میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اے پی پی میں کوئی مستقل بھرتی نہیں ہوئی ، پیشہ وارانہ ضروریات پوری کرنے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے عین مطابق عارضی بھرتیاں ہوئیں، یہ بھرتیاں منظور شدہ آسامیوں کے اندر رہتے ہوئے کی گئیں۔ وہ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران محمد ریاض خان کے سوال پر اظہار خیال کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعا ت و نشریات کی جانب سے معزز رکن کے سوال پر تحریری جواب دیدیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے پی پی بورڈ آف ڈائریکٹر کے پانچویں اجلاس میں تفویض کیے گئے اختیارات کے عین مطابق عارضی طور پر بھرتیاں ہوئیں جو پیشہ وارانہ امور چلانے کے لئے تھیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں، فنڈز کی غیر قانونی منتقلی اور 20 جعلی بھرتیوں کی نشاندہی پر اے پی پی انتظامیہ نے فوری اور شفاف کارروائی کو یقینی بنایا ہے۔ حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی کی سفارشات پر ان تمام معاملات کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف تفتیش اور ریکوری کا عمل جاری ہے۔ یہ اقدامات ادارے میں مالی نظم و ضبط کی بحالی اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
وزارت کے تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقرریاں مکمل طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تفویض کردہ اختیارات اور رائج ضوابط کے مطابق کی گئی ہیں۔ ادارے نے مالی کفایت شعاری کو برقرار رکھتے ہوئے، قیمتی تکنیکی آلات کے تحفظ کے لیے سابقہ پراجیکٹ کے تربیت یافتہ عملے کو شفاف امتحان اور انٹرویو کے ذریعے کم تنخواہ اور اسکیلز پر دوبارہ تعینات کیا ہے۔ یہ تمام بھرتیاں منظور شدہ بجٹ اور افرادی قوت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی گئی ہیں تاکہ قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ ڈالے بغیر ادارے کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور مالی تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔
آغا رفیع اللہ نے ضمنی سوال میں کہا کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے عام لوگوں کے مسائل حل نہیں ہونگے، ہمیں عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔ معزز اراکین کے سوالات پاکستا ن کے لوگوں کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود سے متعلق ہوں گے تو براہ راست فوائد عوام کو ملیں گے ۔عالیہ کامران نے بھی ضمنی سوال کیا ۔ جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزارت اطلاعات کی جانب سے دیا گیا جواب دوہرایا ۔








