برآمدات بڑھانےاور کمپلائنس کےسنگین چیلنجزسے نمٹنےکے لئے برآمدی شعبہ کونیشنل کمپلائنس سنٹرکےتعاون سےابھی سےتیاری کرنا ہو گی، ڈاکٹرنبیل امین

فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):برآمدات بڑھانے کیلئے موجودہ برآمد کنندگان کو سرٹیفکیشن سے آگے کمپلائنس کے سنگین چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے برآمدی شعبہ کو نیشنل کمپلائنس سنٹر کے تعاون سے ابھی سے تیار ی کرنا ہو گی۔ یہ بات این سی سی کے ہیڈ آف کمپلائنس ڈاکٹر نبیل امین نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے …

فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):برآمدات بڑھانے کیلئے موجودہ برآمد کنندگان کو سرٹیفکیشن سے آگے کمپلائنس کے سنگین چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے برآمدی شعبہ کو نیشنل کمپلائنس سنٹر کے تعاون سے ابھی سے تیار ی کرنا ہو گی۔ یہ بات این سی سی کے ہیڈ آف کمپلائنس ڈاکٹر نبیل امین نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے عالمی تجارت میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کی 60سے 70فیصد برآمدات یورپی ملکوں کو ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 29بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط کر چکا ہے مگر پہلے اِن کی پابندی رضا کارانہ نوعیت کی تھی جبکہ اب قانون سازی کے بعد صرف سرٹیفکیشن کا فی نہیں ہو گی بلکہ اِس کیلئے عملی تعمیل کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر برآمد کنندگان کو کئی قسم کی سرٹیفکیشن کی ضرورت ہوتی تھی مگر اب غیر ملکی خریداروں کے وینڈرز کیلئے اپنی حد تک تعمیل کافی نہیں ہو گی بلکہ آگے ان کے دوسرے وینڈرز کیلئے بھی تمام بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل لازمی ہو گی۔

انہوں نے امریکہ اور یورپی ملکوں کے متبادل کے طورپر دیگر ملکوں کو برآمدات بڑھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کو برآمدات کیلئے بھی ایک سو کے لگ بھگ سرٹیفکیشنز کی ضرورت ہو گی اس لئے ہمیں اپنے معاملات میں شفافیت لانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی، سوشل اور گورننس سمیت تمام بین الاقوامی تجارتی قوانین کی مکمل پاسداری کرنا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی سی اس سلسلہ میں بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ ایس ایم ای سیکٹر سے وابستہ دیگر یونٹوں کی آگاہی اور تربیت کیلئے بھی سیمینار اور ورکشاپس منعقد کر سکتا ہے۔

اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے اس اہم موضوع پر آگاہی دینے کیلئے فیصل آباد چیمبر کا انتخاب کرنے پر وفاقی وزارت کامرس کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ وہ آئندہ بھی اس قسم کی تقریبات کیلئے ہمہ وقت تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر کا مختصر تعارف پیش کیا اور بتایا کہ اس شہر کو ملک کی مجموعی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 50فیصد کا گرانقدر حصہ ڈالنے کا اعزاز حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات حکومت اور چیمبر کی ترجیحات میں سر فہرست ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس سے متعلقہ تمام ادارے متحرک اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں این سی سی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ سوال و جواب کی نشست میں عارف احسان ملک، وحید خالق رامے، محمد علی، محمد اشرف مغل، عمر فاروق کاہلوں، جواد شفیق اور سلمان اشرف نے بھی خطاب کیا جبکہ سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

آخر میں صدر فاروق یوسف شیخ نے نیشنل کمپلائنس سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر نبیل امین کو چیمبر کی پچاس سالہ سالگرہ کے حوالے سے کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر این سی سی کے تھیمیٹک ایکسپرٹ برائے انوائرمنٹ ڈاکٹر شہباز علی خاں بھی موجود تھے۔