برآمدی شعبے کو درپیش بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے، کاشف اشفاق

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ عالمی منڈیوں میں برآمدی شعبے کو درپیش بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری سٹرکچرل، پیداواری اور نتائج پر مبنی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ نجی شعبے کے مسلسل مطالبے پر حکومت نے برآمدات پر عائد 0.25 …

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ عالمی منڈیوں میں برآمدی شعبے کو درپیش بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری سٹرکچرل، پیداواری اور نتائج پر مبنی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ نجی شعبے کے مسلسل مطالبے پر حکومت نے برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کر دیا ہے، جس سے کمپنیوں کی لیکویڈیٹی میں نمایاں بہتری آئے گی، تاہم اصلاحات انتہائی کم اور ان کی رفتار نہایت سست ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب تک ہم برآمدات میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہیں کر پاتے، موجودہ صورتحال سے نکلنے کے امکانات کم ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر پر انحصار کے بجائے برآمدی ترقی کی راہ میں حائل تمام پالیسی رکاوٹوں کو فوری ختم کیا جائے۔میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ ہماری برآمدی اشیاء کی عالمی طلب میں کمی، بلند کاروباری لاگت، مہنگی توانائی اور حد سے زیادہ ٹیکس ہماری برآمدات کم ہونے کی بنیادی وجوہات ہیں، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں ہمارے برآمد کنندگان کی مسابقتی برتری کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل منفی برآمدی نمو کے باعث کرنسی کی قدر میں کمی اور شرحِ سود میں کمی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں تاکہ برآمد کنندگان غیر ملکی منڈیوں میں اپنی قیمتوں کی مسابقت برقرار رکھ سکیں۔