فیصل آباد۔ 04 جولائی (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ(پیٹاڈ)کے ڈائریکٹر ٹریننگ قذافی رند نے کہا ہے کہ یہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو سرکاری ملازمین کے علاوہ نجی شعبہ کو بھی صنعت و تجارت کے بارے میں جدید سائنسی خطوط پر عملی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ انہوں نے کامرس اینڈ ٹریڈ …
برآمد کنندگان مسائل کے حل کے لئے ایکسپورٹ پروموشن کمیٹی سے رابطہ کریں ،ڈائریکٹر پیٹاڈ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 04 جولائی (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ(پیٹاڈ)کے ڈائریکٹر ٹریننگ قذافی رند نے کہا ہے کہ یہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو سرکاری ملازمین کے علاوہ نجی شعبہ کو بھی صنعت و تجارت کے بارے میں جدید سائنسی خطوط پر عملی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ انہوں نے کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے زیر تربیت افسران کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران کہا کہ ایک سال کے کامن ٹریننگ پروگرام کے بعد مختلف شعبوں کے لئے سپیشلائزڈ ٹریننگ کورس بھی منعقد کئے جاتے ہیں جن کے لئے لمز اور نسٹ سمیت ملک کے بہترین تعلیمی اداروں کے فیکلٹی ممبران کو لیکچر دینے کے لئے بلایا جاتا ہے نیز ای کامرس کے فروغ کے سلسلہ میں بھی خصوصی تربیتی ورکشاپس منعقد کی گئیں جن سے گھریلو خواتین نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹاڈ پالیسی تھنک ٹینک کے طور پر بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرر ہا ہے۔ مختلف ادارے معیشت کے حوالے سے جو اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں ان کا تجزیہ کر کے حکومت کو سفارشات پیش کی جاتی ہیں اور حکومت ان کی روشنی میں صنعتکاروں، تاجروں اور برآمد کنندگان کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بڑا حصہ ڈال رہا ہے لیکن ”شکن“سے پاک کپڑے کی طلب کو پورا کرنے کے لئے فیصل آباد کے برآمد کنندگان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے ایکسپورٹ پروموشن کمیٹی سے رابطہ کریں جس کے اجلاس ہر ماہ ہوتے ہیں اور فیصل آباد کے برآمد کنندگان زو م ایپ کے ذریعے آن لائن اس اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں نیز مسئلے کی اہمیت کے حوالے سے اس کا اجلاس فیصل آباد میں بھی بلایا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں سینئر نائب صدر ٖیصل آباد چیمبر ڈاکٹر سجاد ارشد نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کا اہم ترین مرکز ہے جو ٹیکسٹائل کی ملکی برآمدات میں 60فیصد کا گرانقدر حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ40 فیصد افرادی قوت کو روزگار بھی فراہم کر رہا ہے۔ صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لئے سستے سرمایے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر زرعی پیداوار کی وجہ سے 8ارب کی زرعی اجناس برآمد کی گئیں تاہم زیادہ منافع کے لئے ان کی ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جامعہ زرعیہ نے سویابین کی تین نئی اقسام تیار کی ہیں جنہیں 150 ایکڑ رقبے پر کاشت کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولٹری فیڈ تیار کرنے والوں نے تمام پیداوار خریدنے کا یقین دلایا ہے جس سے اس صنعت کی 30سے35فیصد ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کینو کے مسئلہ پر بھی جامعہ زرعیہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے سولر سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ہماری پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان فیصل آباد کی ڈائریکٹر ناہید اختر نے صنعت و تجارت کے فروغ میں فیصل آباد چیمبر کے تعاون کو سراہا اور زیر تربیتی افسران پر زرو دیا کہ وہ اپنی سطح پر بزنس کمیونٹی کے مسئلوں کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں تاہم اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو انہیں ان معاملات کو اپنی سفارشات کے ہمراہ فوری طور پر اعلیٰ حکام کو بھیج دینا چاہے تاکہ بزنس کمیونٹی کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پید اکی جا سکیں۔ آخر میں ڈاکٹر سجاد ارشد اور قذافی رند نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے اداروں کی شیلڈز بھی پیش کیں۔








