اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس جمعرات 4 مارچ 2021 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کاموضوع ’’تاخیر نہ کریں‘ آج ہی سرمایہ کاری کریں‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) اور چین کا نیشل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن (این ڈی آر سی)، سی پیک کے تحت پاک چین باہمی …
ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس 4 مارچ کو پشاور میں ہو گی، سرمایہ کاری بورڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس جمعرات 4 مارچ 2021 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کاموضوع ’’تاخیر نہ کریں‘ آج ہی سرمایہ کاری کریں‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) اور چین کا نیشل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن (این ڈی آر سی)، سی پیک کے تحت پاک چین باہمی صنعتی تعاون کے فروغ کےلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
اس حوالہ سے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کو ایک حقیقی اقتصادی راہداری میں بدلنے کے مشترکہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سی پیک کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں 9 خصوصی اقتصادی زونز تعمیر کئے جائیں گے۔ سی پیک کو حقیقی اقتصادی راہداری میں بدلنے کے حوالہ سے بی ٹو بی و سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو پشاور کے مقامی ہوٹل میں 4 مارچ 2021 کو منعقد ہو گی۔ کانفرنس میں سی پیک کے ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ پاکستانی اور غیر ملکی کاروباری و تعلیمی اداروں کے باہمی رابطوں کو بڑھایا جا سکے۔
کانفرنس کے انعقاد سے پاکستان اور چین کے علاوہ دیگر مختلف ممالک کو مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں سہولت حاصل ہو گی جس سے سی پیک کے تحت پاک چین دوطرفہ صنعتی تعاون کے علاوہ سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ کانفرنس میں کان کنی، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، خدمات، توانائی اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مزید برآں کانفرنس میں خیبر پختونخوا میں خصوصی اقتصادی زونز کے علاوہ دیگر انڈسٹریل پارکس میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع کو بھی اجاگر کیا جائے گا جس سے نہ صرف پاک چین صنعتی تعاون بلکہ غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔








