بلوچستان میں عطائیت کے خلاف کارروائیاں،ایک سال میں 41 مراکز صحت سیل، 178 پر جرمانے عائد کئے گئے، ڈاکٹر نور محمد قاضی
بلوچستان میں عطائیت کے خلاف کارروائیاں،ایک سال میں 41 مراکز صحت سیل، 178 پر جرمانے عائد کئے گئے، ڈاکٹر نور محمد قاضی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 06 جولائی (اے پی پی):بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نور محمد قاضی نے کہا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کا بنیادی مقصد صوبے میں معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور عطائیت کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ادارہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت قائم کیا گیاجبکہ ادارے نے 2025 سے باقاعدہ طور پر اپنی ریگولیٹری ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کیں۔صوبے میں میں عطائیت کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ،ایک سال میں 41 مراکز صحت سیل، 178 پر جرمانے عائد کئے گئے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر نور محمد قاضی نے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے بھر میں سرکاری، نجی، خودمختار، نیم خودمختار، ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں، کلینکس، لیبارٹریوں، زچہ و بچہ مراکز، ہومیوپیتھک اور طب یونانی مراکز سمیت تمام طبی اداروں کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ انہوں نے تمام طبی مراکز پر زور دیا کہ وہ مقررہ قوانین کے مطابق اپنی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا عمل جلد مکمل کریں۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن میں مریضوں، ان کے لواحقین اور طبی عملے کی شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیے باقاعدہ ڈائریکٹوریٹ قائم ہے، جہاں موصول ہونے والی شکایات پر شفاف انداز میں کارروائی کی جاتی ہے۔ڈاکٹر نور محمد قاضی نے 2025 سے 30 جون 2026 تک کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس عرصے کے دوران صوبے بھر میں مجموعی طور پر 1,725 مراکز صحت رجسٹرڈ کیے گئے،
جن میں 781 سرکاری اور 945 نجی ادارے شامل ہیں۔ اسی عرصے میں 17 مراکز صحت کو پروویژنل لائسنس جاری کیے گئے، جن میں 3 سرکاری اور 14 نجی ادارے شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 178 مراکز صحت پر جرمانے عائد کیے گئے، 83 اداروں کو نوٹس جاری کیے گئے جبکہ 41 مراکز صحت کو سیل کیا گیا۔ مختلف وجوہات کی بنیاد پر 605 مراکز صحت کا بار بار معائنہ بھی کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن کو مجموعی طور پر 32 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 15 کا ازالہ کر دیا گیا ہے جبکہ 17 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔
سی ای او بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن نے کہا کہ رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ طبی ادارے نہ صرف قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں بلکہ عوام کو محفوظ اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عطائیت انسانی جانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور کمیشن ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ایسے عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر نور محمد قاضی نے میڈیا کے ذریعے عوام سے اپیل کی کہ علاج کے لیے صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ طبی اداروں اور مستند معالجین سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی طبی ادارے میں ناقص طبی سہولیات، غیر ذمہ دارانہ رویہ یا غیر قانونی طبی سرگرمیوں کی نشاندہی ہو تو فوری طور پر بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔








