خیبرپختونخوا اسمبلی: اقلیتی کوٹہ، آبپاشی میں مبینہ گھوسٹ سکیمیں، این ایف سی اور بجٹ خسارے پر حکومت کو سخت سوالات کا سامنا

خیبرپختونخوا اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اقلیتوں کے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے، محکمہ آبپاشی میں مبینہ گھوسٹ سکیموں، صوبائی بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، ڈپٹی کمشنرز کے فنڈز اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیے گئے جبکہ متعدد معاملات قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے

پشاور۔ 06 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اقلیتوں کے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے، محکمہ آبپاشی میں مبینہ گھوسٹ سکیموں، صوبائی بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، ڈپٹی کمشنرز کے فنڈز اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیے گئے جبکہ متعدد معاملات قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے۔رکن اسمبلی سریش کمار نے محکمہ آبپاشی میں اقلیتوں کے پانچ فیصد ملازمت کوٹے پر عملدرآمد سے متعلق سوال اٹھایا۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقلیتی کوٹہ دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، محکمہ بھرتیوں اور خالی آسامیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کر چکا ہے اور تمام خالی آسامیوں کو ایک ماہ کے اندر مشتہر کر دیا جائے گا۔رکن احسان اللہ نے محکمہ آبپاشی میں 2024ء سے اب تک ہونے والے ٹینڈرز پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض افسران گھوسٹ سکیموں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی منصوبے صرف کاغذوں میں موجود ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔وزیر آبپاشی ریاض خان نے جواب میں کہا کہ تمام ٹینڈرز ای بڈنگ کے ذریعے شفاف انداز میں کیے گئے، منصوبوں کی ادائیگی معیار، لاگت اور مقدار کی جانچ کے بعد ہی کی جاتی ہے تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمانہ انکوائری کرائی جائے گی۔

اس موقع پر احسان اللہ نے دعویٰ کیا کہ اگر 38 کروڑ روپے کے منصوبے میں دو کروڑ روپے کا بھی کام ثابت ہو جائے تو وہ ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں اور محکمہ سے ’’کالی بھیڑیوں‘‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔وزیر نے مزید بتایا کہ محکمہ آبپاشی میں شکایات کے ازالے کے لیے کمپلینٹ سیل قائم ہے اور ہر ڈویژن میں شکایتی نمبرز آویزاں ہیں تاہم اب تک کسی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔دوسری جانب ارباب عثمان کے سوال پر وزیر خزانہ آفتاب عالم نے کہا کہ رواں مالی سال سرپلس کے بجائے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس آئی ایم ایف کی شرط تھی تاہم صوبائی کابینہ نے بعد ازاں اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ وفاقی محصولات میں کٹوتی اور ریونیو شارٹ فال کے باعث صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپیکر نے یہ معاملہ مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیااپوزیشن رکن ریاض کے سوال پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز کو تنخواہوں اور غیر تنخواہی اخراجات کے لیے فنڈز اکاؤنٹ فور کے تحت منتقل کیے جاتے ہیں جبکہ ترقیاتی فنڈز کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکرٹ فنڈز کی تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں، تاہم آڈٹ کی صورت میں متعلقہ معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن عدنان خان نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو گزشتہ پانچ برسوں میں کم فنڈز ملنے اور محکمہ خزانہ کے وائٹ پیپر میں ترقیاتی فنڈز کے اعداد و شمار میں تضاد پر سوال اٹھایا۔

پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی نے بھی ہر سال 60 سے 70 ارب روپے کے فرق کی نشاندہی کی۔وزیر خزانہ آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کا حصہ 14.62 فیصد ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں صوبے کا مجموعی حصہ 3647 ارب روپے بنتا تھا جبکہ 3488 ارب روپے موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اور جاری اخراجات کی مکمل تفصیلات ایوان کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ سپیکر نے یہ معاملہ بھی مزید جائزے کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔