بوسنیا میں 8 ہزار مسلمانوں کی شہادت کے 30 سال مکمل ہونے پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد، وزیر مملکت عون چوہدری نے پاکستان کی نمائندگی کی

سراجیوو۔ بوسنیا۔12جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی طرف سے بوسنیا میں 30 سال قبل 1995میں ہونے والے قتل عام کی یاد میں عالمی دن منعقد کیا گیا اور اس تعزیتی ریفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین جبکہ پاکستان سے وزیر مملکت برائے اوور سیز عون چوہدری نے شرکت کی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے تعزیتی خط پڑھ کر سنایا۔ ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق وزیر …

سراجیوو۔ بوسنیا۔12جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی طرف سے بوسنیا میں 30 سال قبل 1995میں ہونے والے قتل عام کی یاد میں عالمی دن منعقد کیا گیا اور اس تعزیتی ریفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین جبکہ پاکستان سے وزیر مملکت برائے اوور سیز عون چوہدری نے شرکت کی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے تعزیتی خط پڑھ کر سنایا۔

ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق وزیر مملکت عون چوہدری نے شہداء کی یادگار پر پھول پیش کیے اور اپنی گفتگو میں کہا کہ بوسنیا میں ہونے والے مظالم دنیا کو آج بھی خون کے آنسو رلاتے ہیں، پاکستان بوسنیا کی طرح دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کا خواہاں ہے اور فلسطین اور کشمیر کے مظالم کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتا ہے۔ عون چوہدری نے پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے بوسنیا کے عوام کے لئے خیر سگالی اور ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا۔ بوسنیا میں پاکستان کے سفیر میجر جنرل (ر) سید قیصر عباس شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر کے ممالک سے مندوبین کے علاوہ بوسنیا کے صدر بھی اس تقریب میں شریک تھے جنہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ 1995میں شہید ہونے والے 8 ہزار مسلمانوں کے لئے پاکستان نے ہمیشہ ہمارے موقف کا ساتھ دیا اور ہمارا ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امن، بھائی چارے اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم ہے۔

وزیر مملکت برائے اوورسیز عون چوہدری نے بوسنیا میں ہونے والی زیادتی کو تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی اصولوں کے مطابق” جیو اور جینے دو” کی پالیسی کا امین ہے۔سربیا، فلسطین، کشمیریا دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیا جانا چاہیے، آج ہم بوسنیا میں اسی اصول کے تحت اس تعزیتی ریفرنس میں شرکت کر رہے ہیں کہ 30 سال قبل جو ظلم ڈھایا گیا اُس کا کسی طور پر بھی اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔