ڈاک کے عالمی دنڈاک کے عالمی دن کے موقع پر جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) ملتان میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ ڈاک کی تاریخی اہمیت، عوامی خدمات اور بدلتے ہوئے دور میں اس کی افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب عابد محمود، اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب مختار احمد، چیف پوسٹ ماسٹر جی پی او ملتان حرا عزیز …
ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر جی پی او ملتان میں تقریب

مزید خبریں
ملتان۔ 09 اکتوبر (اے پی پی):ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) ملتان میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ ڈاک کی تاریخی اہمیت، عوامی خدمات اور بدلتے ہوئے دور میں اس کی افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب عابد محمود، اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب مختار احمد، چیف پوسٹ ماسٹر جی پی او ملتان حرا عزیز مزاری، معروف کالم نگار، مصنف و ادیب شاکر حسین شاکر، سماجی شخصیت پروفیسر اعظم حسین، سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور صدر نظریہ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی، ممبر ویمن چیمبر آف کامرس طاہرہ نجم، ویمن یونیورسٹی ملتان کی ٹریژرردیبا شہوار،ریجنل ڈائریکٹر پوسٹل لائف انشورنس کمپنی ابوزرگیلانی،اسحاق خان بلوچ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عبید اللہ بھٹی،علی بلوچ،عبیرہ خاکوانی، پوسٹ ماسٹرز،سماجی رہنماؤں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے دوران پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب عابد محمود او اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر جنرل جنوبی پنجاب مختاراحمد نے ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں کہا گیا کہ ورلڈ پوسٹ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ڈاک کا نظام محض خطوط اور پارسلوں کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی تعاون، اعتماد اور باہمی رابطے کی ایک پائیدار مثال ہے، جو لوگوں، برادریوں اور قوموں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
اس سال کا موضوع ”ایک پوسٹل نیٹ ورک، لامحدود امکانات“ ڈاک کے اس وسیع نیٹ ورک کی طاقت اور مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔پیغام کے مطابق دنیا بھر میں 6 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ڈاک خانے اور 46 لاکھ ڈاک ملازمین، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے دنیا کے بڑے عالمی نیٹ ورکس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ محکمہ ڈاک عوام، کاروباری اداروں اور حکومتوں کے لیے خدمات کا ایک جامع مرکز ہے۔ ڈاک ملازمین روزانہ لوگوں اور اداروں کے درمیان قابل اعتماد رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں، کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی میں مدد دیتے ہیں اور خواتین کاروباری شخصیات سمیت دیہی و پسماندہ طبقات کو بنیادی سہولیات اور نئے مواقع سے منسلک کرتے ہیں۔چیف پوسٹ ماسٹر جی پی او ملتان حرا عزیز مزاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ ڈاک عوامی خدمت کی ایک قدیم اور قابل اعتماد روایت کا امین ہے۔ وقت کے ساتھ ذرائع ابلاغ اور رابطوں کے طریقوں میں تبدیلی آئی ہے، تاہم ڈاک کی اہمیت برقرار ہے۔ محکمہ ڈاک اپنے صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ڈاک ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچانا ایک اہم ذمہ داری ہے، جسے ڈاک کا عملہ محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ نبھاتا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ ڈاک کی تعلیمی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور اہمیت کا حامل ہے
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے لاکھوں طلبا کو ان کی دہلیز پر پوسٹیں مہیا کی جارہی ہیں اور وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آگے بڑھ رہے ہیں اور یونیورسٹیز کی ڈگریاں پہنچائی جاتی ہیں یادگاری ٹکٹوں کا اجراء بھی عظیم خدمت ہے جس سے ثقافت محفوظ ہو رہی اور دینی سیاسی سماجی اور بین الاقوامی شخصیات کی تصاویر کے ساتھ ٹکٹوں کے اجراء سے عالمی مذہبی شخصیات اور یادگا روں کو محفوظ کررہا ہے اور انٹر نیشنل آفیئرز پر بھی ٹکٹیں جاری کرکے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کررہا ہے۔معروف کالم نگار، مصنف و ادیب شاکر حسین شاکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا محکمہ ڈاک محبت، یادوں اور رومانوی تعلقات کی ایک خوبصورت تاریخ رکھتا ہے۔ ماضی میں خط و کتابت لوگوں کے درمیان جذبات اور احساسات کے اظہار کا اہم ذریعہ تھی۔ ڈاک خانے سے وابستہ یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، تاہم موبائل فون اور جدید ذرائع ابلاغ نے نئی نسل کو خط لکھنے اور ڈاک خانے کی روایت سے دور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاک خانے کی اپنی ایک خوشبو، پہچان اور تاریخی اہمیت ہے۔ محکمہ ڈاک نے ان علاقوں تک بھی لوگوں کی ڈاک پہنچائی جہاں دیگرسہولیات کی رسائی مشکل تھی۔انہوں نے چاہ بوہڑوالا میں سلطان احمد خان پوسٹ آفس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی ایک مرحومہ بیٹی نے ڈاک خانے کو یادگاربنانے کے لیے اس کی تعمیرکرواکراسے محکمہ ڈاک کے نام کیا،جوڈاک اوراس سے وابستہ یادوں سے محبت کی ایک مثال ہے۔
سماجی شخصیت پروفیسر اعظم حسین نے ڈاک کے عالمی دن کی تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاک ہماری وراثت اورثقافت کا اہم حصہ ہے۔ ڈاک کے نظام نے سائنس اورٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ رابطوں کے نئے ذرائع کی راہ ہموارکی،جس کے نتیجے میں ایس ایم ایس، ای میل اورویڈیو کال جیسی سہولیات عام ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ محکمہ ڈاک سے وابستہ افراد دیانت داری، محبت اور ذمہ داری کے ساتھ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچاتے ہیں، جو قابل تحسین خدمت ہے۔سماجی رہنما اورممبر وومن چیمبر آف کامرس طاہرہ نجم نے کہا کہ محکمہ ڈاک کے ملازمین خراج تحسین کے مستحق ہیں، جو موسم اور حالات کی پروا کیے بغیر لوگوں کی امانتیں ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاک کا عملہ عوامی اعتماد کو برقراررکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسراورصدر نظریہ پاکستان ٹرسٹ پروفیسرڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ ڈاک ماضی میں خط و کتابت اور جذبات کے اظہار کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ اس کی خدمات اور طریقہ کار میں تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن اس کی افادیت ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی محکمہ ڈاک مختلف اہم خدمات انجام دے رہا ہے اور قومی و سماجی زندگی میں اس کی اپنی اہمیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاک کے عالمی دن جیسی تقریبات سے اس ادارے کی تاریخی حیثیت اور خدمات نئی نسل کے سامنے اجاگر ہوتی ہیں۔ جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں لانا ضروری ہے، تاہم اپنی روایات اور بنیادی افادیت کو برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔تقریب کے اختتام پر وومن یونیورسٹی ملتان کی جانب سے ڈاک کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ مقابلہ خطوط میں حصہ لینے والی طالبات اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے پوسٹ ماسٹرز میں اسناد تقسیم کی گئیں۔








