پشاور۔ 01 نومبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بچوں میں پیدائشی دل کے امراض ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، اس کے علاج اور بروقت تشخیص کے لیے حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، کوئی بھی بچہ محض غربت یا مالی مشکلات کے باعث زندگی بچانے والے علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے …
بچوں میں پیدائشی دل کے امراض کے علاج اور بروقت تشخیص کیلئےحکومت تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 01 نومبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بچوں میں پیدائشی دل کے امراض ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، اس کے علاج اور بروقت تشخیص کے لیے حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، کوئی بھی بچہ محض غربت یا مالی مشکلات کے باعث زندگی بچانے والے علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پشاور میں بچوں میں دل کے امراض سے متعلق منعقدہ سمپوزیم سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سمپوزیم میں چیئرمین آر ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر محمد رحمان، ڈاکٹر اعظم جان خان، ڈاکٹر شفیق الرحمان،ڈاکٹر طارق سہیل و دیگر ماہرین قلب نے بھی اظہار خیال کیا۔ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے بچوں میں دل کے امراض کے علاج کیلئے پبلک و پرائیویٹ اشتراک سے آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ جیسے ادارے قومی فخر کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر ایک ہزار بچوں میں سے تقریباً آٹھ بچے دل کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں،حکومت، طبی ماہرین اور نجی شعبہ اگر مل کر کام کریں تو کوئی بھی دل کے عارضے میں مبتلا بچہ زندگی کے حق سے محروم نہیں رہے گا۔ گورنر خیبر پختونخوا نے سمپوزیم کے منتظمین، ماہرینِ طب اور شرکاء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کا جذبہ ہی اس عظیم مقصد کی اصل روح ہے۔








