بچوں کا تحفظ ریاست، معاشرے اور خاندان کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یومِ اطفال کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ اطفال کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن محض اعتراف نہیں بلکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، عالمی یومِ اطفال دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرنے …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ اطفال کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن محض اعتراف نہیں بلکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، عالمی یومِ اطفال دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرنے اور اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ طفل کی سالگرہ کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔

بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہر بچے کو بغیر کسی امتیاز کے بنیادی حقوق اور استحصال سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اہم اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی موضوع ’’میرا دن ، میرے حقوق‘‘ بچوں کو اپنی زندگیوں سے متعلق فیصلوں میں شریک ہونے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ موضوع اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے تحت ہونے والی پیشرفت اور ایک مضبوط سماجی تحفظ کے نظام کی ضرورت کو بھی واضح کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کا تصدیق کنندہ ہے جو پالیسی سازی میں بچوں کی آواز شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ریاست ان اصولوں کی تکمیل کے لئے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین بچوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور یہ عزم قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل ایکٹ 2017، آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2018، جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018، ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2022 اور آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 جیسے قوانین کے ذریعے مزید مضبوط ہوا ہے جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی قابلِ سزا جرم ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت نے بچوں کے استحصال کی روک تھام اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف ادارے اور سروس ڈلیوری یونٹس قائم کئے ہیں جن میں چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ ریاست، معاشرے اور خاندان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے تمام حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا، اقوامِ متحدہ کے اداروں، کمیونٹیز، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور بچوں پر زور دیا کہ وہ مل کر ملک کے ہر بچے کے لئے محفوظ، صحت مند اور پرورش پذیر ماحول کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں ۔