لاہور۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں کو یرغمال بنانے کا کوئی حق نہیں رکھتا،سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کا مقصد دریائے سندھ کے آبی نظام کی پاکستان اور بھارت کے درمیان منصفانہ اور مستقل بنیادوں پر تقسیم کو یقینی بنانا …
بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائوں کو یرغمال نہیں بنا سکتا،کوآرڈینیٹروفاقی ٹیکس محتسب

مزید خبریں
لاہور۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں کو یرغمال بنانے کا کوئی حق نہیں رکھتا،سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کا مقصد دریائے سندھ کے آبی نظام کی پاکستان اور بھارت کے درمیان منصفانہ اور مستقل بنیادوں پر تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔وہ اتوار کو لاہور میں معیشت پر دریائوں کے اثرات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریائوں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے غیر مشروط استعمال کا حق حاصل ہے جبکہ بھارت کو صرف محدود اور غیر استعمالی مقاصد کے لیے، وہ بھی سخت تکنیکی شرائط کے تحت، پن بجلی، آبپاشی اور گھریلو ضروریات کے لیے پانی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سیف الرحمان نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات اور جارحانہ رویے بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ زیریں ممالک کے حقوق کو مجروح اور عالمی سطح پر سرحد پار آبی وسائل کے نظم و نسق کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اس لیے آج تک قائم ہے کہ اس میں ڈیٹا کے تبادلے، مشترکہ معائنوں، غیر جانبدار ماہرین و ثالثی جیسے موثر اور شفاف طریقہ کار شامل ہیں جنہیں نظرانداز کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ سیف الرحمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کسی فریق پر احسان نہیں بلکہ ایک قانونی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے، تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی تحفظ، باہمی اعتماد و علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔








