واشنگٹن۔11فروری (اے پی پی):ایک امریکی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2024 میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں75 فیصد کا "حیران کن" اضافہ ہوا ہے جس نے بھارت کی 22 کروڑ کی مسلم آبادی کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ڈی ڈبلیو نے امریکا میں قائم تھنک ٹینک انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی تازہ رپورٹ کے حوالہ …
بھارت میں اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں75 فیصد کا "حیران کن” اضافہ ہوا ، امریکی تھنک ٹینک

مزید خبریں
واشنگٹن۔11فروری (اے پی پی):ایک امریکی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2024 میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں75 فیصد کا "حیران کن” اضافہ ہوا ہے جس نے بھارت کی 22 کروڑ کی مسلم آبادی کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ڈی ڈبلیو نے امریکا میں قائم تھنک ٹینک انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی تازہ رپورٹ کے حوالہ سے بتایا کہ بھارت میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی ) کی قیادت والی مودی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں ’’بہت زیادہ‘‘ اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز بیانات کے 668 واقعات رپورٹ ہوئے جو 2024 میں بڑھ کر 1165 تک پہنچ گئے یعنی ان میں بہت زیادہ 74.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چوں کہ 2024 عام انتخابات کا سال تھا اس لئے اس نے نفرت انگیز بیانات کے رجحانات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے رہنماؤں نے 450 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کیں، جن میں سے 63 خود وزیراعظم نریندر مودی کی تھیں۔تحقیق کے مطابق 98.5 فیصد نفرت انگیز تقاریر مسلمانوں کے خلاف کی گئیں اور ان میں سے دو تہائی سے زائد بیانات ان ریاستوں میں دیے گئے جہاں بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے۔
انڈیا ہیٹ لیب کے تجزیے کے مطابق نفرت انگیز مواد پھیلانے کے لیے فیس بک، یوٹیوب اور ایکس سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رہے۔آئی ایچ ایل کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران، بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کی 266 ‘اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر‘ کو یوٹیوب، فیس بک، اورایکس پر بیک وقت پوسٹ کیا گیا۔ یہ تقاریر بی جے پی اور اس کے رہنماؤں کے آفیشل اکاؤنٹس کے ذریعے شیئر کی گئیں
۔آئی ایچ ایل نے رپورٹ میں کہا کہ اس چونکا دینے والے اضافے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریاتی عزائم اور وسیع تر ہندو قوم پرست تحریک کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔گذشتہ سال بھارت میں ہونے والے سخت انتخابی مقابلے کے دوران ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے جس کی مثال نہیں ملتی۔
ناقدین کے مطابق ان بیانات کا مقصد ہندو اکثریت کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ریلیوں میں، مسلمانوں کو ’’گھس بیٹھیا‘‘کہا اور یہ دعویٰ کیا کہ اگر اپوزیشن جماعت کانگریس اقتدار میں آئی تو وہ ملک کی دولت مسلمانوں میں بانٹ دے گی۔نریندر مودی نے گزشتہ سال جون میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی لیکن ایک دہائی میں پہلی بار ان کی بی جے پی کو زبردست انتخابی دھچکا لگا اور اسے مخلوط حکومت بنانے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔بی جے پی کی ہندو قوم پرستی پر مبنی بیان بازی نے بھارت کے 22 کروڑ سےزیادہ مسلمانوں میں ان کے مستقبل کے حوالے سے شدید بےچینی پیدا کر دی ہے۔ بی جے پی نے رپورٹ کی اشاعت سے پہلے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا، تاہم ماضی میں پارٹی ایسے الزامات کو’’بے بنیاد‘‘ اور ’’جھوٹا‘‘قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی کی طرف سے مسلمانوں کو خاص طور پر ہندوؤں اور بھارتی قوم کے لیے حقیقی خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سب سے زیادہ خطرناک اضافہ ان تقاریر میں ہوا جن میں عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کی حمایت کی گئی۔ ہندو بالادستی کے حامیوں نے مسلمانوں سے مذہبی مقامات واپس لینے کے مطالبے کو مزیدبھڑکایا ہے ۔
اس رجحان اس وقت مزید اضافہ دیکھا گیا جب وزیر اعظم مودی نے گذشتہ سال کے انتخابات سے قبل ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کیا۔ یہ مندر اس جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں صدیوں پرانی بابری مسجد موجود تھی، جسے ہندو شدت پسندوں کے ہجوم نے سن 1992 میں منہدم کر دیا تھا۔یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودیآئندہ چند دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں۔








