سرینگر۔27اکتوبر (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیںآج بھارتی فورسز کی فوج کشی کو 73برس مکمل ہوگئے ہیں ۔ اس دوران چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا ہے جن میں جموںمیں شہید کئے جانیوالے ڈھائی لاکھ کشمیری بھی شامل ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آج 27اکتوبر کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیراور آزاد …
بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں گزشتہ 73برس کے دوران چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا

مزید خبریں
سرینگر۔27اکتوبر (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیںآج بھارتی فورسز کی فوج کشی کو 73برس مکمل ہوگئے ہیں ۔ اس دوران چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا ہے جن میں جموںمیں شہید کئے جانیوالے ڈھائی لاکھ کشمیری بھی شامل ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آج 27اکتوبر کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیراور آزاد کشمیرمیں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوںکی طرف سے یوم سیاہ کے طورپر منایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ 27اکتوبر1947کے بعد سے 35لاکھ سے زائد کشمیریوں کو آزاد کشمیر ، پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں ہجرت کرنے پر مجبور کیاگیا ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ تنازعہ کشمیر کا آغاز 1846 میں ایک غیر کشمیری ڈوگرہ خاندان کی برطانوی راج کیلئے خدمات کے عوض تاریخی ریاست جموں و کشمیر کی غیر قانونی ، غیر اخلاقی اور غیر انسانی فروخت کے ساتھ ہوا۔ تاہم 15اگست 1947کوبرطانوی راج کے خاتمے کے بعد جموںوکشمیر کی آزاد حیثیت بحال ہو گئی ۔ کشمیری دانشور ڈاکٹر غلام نبی فائی کے بقول اس وقت بین الاقوامی قانون کے تحت کشمیرکے عوام ریاست پر اپنی مرضی کے مالک تھے نہ کے آمریت پسند مہاراجہ۔ مہاراجہ کے خلاف عوامی جدوجہد کے نتیجے میں کچھ علاقے آزاد کرالئے گئے تھے اور باقی علاقوں کی آزادی کیلئے جدوجہد جاری تھی کہ بھارت نے 27اکتوبر 1947کو کشمیرمیں فوج کشی کر دی ۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے اپنی فوجیں جموں و کشمیر میں اتاردیں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف اس پر زبردستی قبضہ کرلیا۔ اسی طرح 27 اکتوبر 1947 سے کشمیری عوام کے مصائب اور مشکلات کے ناختم ہونے والے باب کا آغاز ہوا اور یہی وجہ ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں ۔








