سری نگر ۔ 3 مارچ (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہاہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔ شمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کشمیرمیں مسلم اکثریتی آبادی کو اسی طرح نشانہ بنارہا ہے جس طرح فلسطین میں اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہا ہے۔ …
بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھاہے، سید علی گیلانی

مزید خبریں
سری نگر ۔ 3 مارچ (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہاہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔ شمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کشمیرمیں مسلم اکثریتی آبادی کو اسی طرح نشانہ بنارہا ہے جس طرح فلسطین میں اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد واتفاق کی ضرورت پر زوردیا ۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جماعت اسلامی پر پابندی کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔ریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہاکہ جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈائون کی وجہ سے وادی بھر میں تنظیم کی زیر نگرانی چلنے والے سکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے جماعت کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈائون کو غیر جمہوری، کشمیرمخالف اور مسلم دشمن کارروائیاں قراردیا ۔دریں اثناء جموں کے چھ اضلاع میںآج چھاپوں کے دوران جماعت اسلامی کے تین معروف رہنمائوں کو گرفتار اور ایک درجن کے قریب عمارتوں کو سیل کیا گیا۔کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن ، پونچھ ، راجوری اور جموں اضلاع میں جماعت کے دفاتر اوررہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر دن بھرچھاپے جاری رہے۔ بھارتی پولیس کی طرف سے چھاپوں کے دوران دو معروف علمائے دین کی گرفتاری کے خلاف جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میںآج مکمل ہڑتال کی گئی۔ بھارتی پولیس نے مولانا نو ر احمد ترالی اور مولوی غلام نبی کو گزشتہ رات ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتارکیا تھا۔دریں اثناء ضلع کپواڑہ میں ہندواڑہ کے علاقے باباگنڈ میں56گھنٹے طویل محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین کشمیری نوجوان شہید اور پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں ۔ یہ کارروائی جمعہ کو شروع ہوئی تھی۔اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کی کونسل نے حق خود ارادیت کے حصول کی مبنی بر حق جدوجہد میں کشمیریوںکی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی تازہ لہر کی شدید مذمت کی ہے۔ وزرائے خارجہ کی کونسل کے 46ویں اجلاس کے دوران پاس کی جانے والی ایک قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیرپاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اور اس کا حل جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے۔قرار داد میں کہا گیا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔جنیوا میں منعقدہ ایک کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ پر عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل میں بحث وتمحیص کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسو سی ایشن آف امریکن مائنارٹیزنے انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین، انٹرنیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور سائوتھ ایشیا سینٹرفار پیس اینڈ ہیومن رائٹس کے اشتراک سے کیا تھا۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیرین مزاری نے تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی۔








