بھارت کا انڈس پر کھلواڑ : پانی کیسے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک ہتھیار بن رہا ہے

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے دریا چناب پر 260 میگا واٹ کے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی منظوری نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی توسیع ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی پانی کی سیاست میں ایک گہری تبدیلی کی علامت بھی ہے۔آن لائن پبلکیشن دی نیشنل انٹریسٹ میں شائع آریٹکل کے مطابق یہ قدم سندھ طاس معاہدہ کو عارضی طور پر معطل کرنے کے اپریل 2025 کے فیصلے کے …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے دریا چناب پر 260 میگا واٹ کے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی منظوری نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی توسیع ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی پانی کی سیاست میں ایک گہری تبدیلی کی علامت بھی ہے۔آن لائن پبلکیشن دی نیشنل انٹریسٹ میں شائع آریٹکل کے مطابق یہ قدم سندھ طاس معاہدہ کو عارضی طور پر معطل کرنے کے اپریل 2025 کے فیصلے کے بعداٹھایا گیا اور یہ واضح اشارہ ہے کہ بھارت اب اس طویل المدتی معاہدے کے بجائے اپ سٹریم پانی پر کنٹرول کو جغرافیائی و سیاسی اثر کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے، جس کی زراعت اور معیشت بنیادی طور پر انڈس بیسن کے پانی پر منحصر ہے، اس کے اثرات شدید ہیں۔دلہستی اسٹیج-II پراجیکٹ کی لاگت تقریباً 395 ملین ڈالر ہے جسے بھارتی پبلک سیکٹر کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ رَن آف دی ریور اسکیم کے تحت آتا ہے اور سندھ طاس معاہدہ کے تحت جائز ہے، تاہم معاہدے کی تعمیل صرف ایک پروجیکٹ تک محدود نہیں بلکہ پانی کی مجموعی صورتحال، حکمت عملی اور تنازعہ حل کے میکانزم میں کمی کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں دستخط ہونے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے سب سے مضبوط بین الاقوامی پانی کے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس نے بھارت اور پاکستان کی جنگوں، طویل سفارتی تعطل، اور بار بار آنے والے علاقائی بحرانوں کو برداشت کیا۔معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریائوں راوی، بیاس اور ستلج پر کنٹرول حاصل ہے جبکہ مغربی دریا انڈس، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص ہیں۔ بھارت کو صرف محدود غیر استعمال شدہ مقاصد کے لیے پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔تاہم اپریل 2025 کے پہلگام واقعے اور اس کے بعد سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی معاہدے کے تنازعہ حل کے نظام پر سوال اٹھائے اور انڈس بیسن میں کئی طویل متنازعہ ہائیڈروپاور منصوبے تیز کر دیے۔

لہٰذا دلہستی اسٹیج-II کو صرف ایک الگ انفراسٹرکچر پروجیکٹ کے طور پر نہیں بلکہ بھارت کی وسیع حکمت عملی کے حصہ کے طور پر سمجھنا چاہیےاگست میں مستقل ثالثی عدالت نے دوبارہ تصدیق کی کہ بھارت پابند ہے کہ وہ مغربی دریائو ں کے پانی کو پاکستان کے غیر محدود استعمال کے لیے بہنے دے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاسی تنازعات کے باوجود معاہدے کی قانونی ذمہ داریاں برقرار ہیں۔ پاکستان نے بھی نیوٹرل ایکسپرٹ کے طریقہ کار میں شرکت جاری رکھی جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاہدے کی تعمیل میں ایک طرفہ غیر توازن پیدا ہو رہا ہے۔

چناب دریا پاکستان کی زراعت اور معیشت کے لیے اہم ہے۔ پنجاب میں آتے ہوئے یہ گندم، چاول اور گنا کی کاشت کے لیے ضروری پانی فراہم کرتا ہے، جو ملک کی خوراک کی حفاظت کے لیے بنیادی فصلیں ہیں۔ پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا مسلسل آبپاشی نظام ہے اور اس کی زراعت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ انڈس بیسن پر منحصر ہے۔ لہٰذا پانی کے بہاؤ میں معمولی تبدیلی یا تاخیر بھی معاشی اور انسانی نقصان پیدا کر سکتی ہے۔دلہستی اسٹیج-II مارسودار دریا سے اضافی پانی لیتا ہے جو پاکل دول پروجیکٹ کے ذریعے دلہستی ریزروائر میں جاتا ہے۔

بھارتی ماحولیاتی دستاویزات بھی تسلیم کرتی ہیں کہ یہ تبدیلی دریا کی شکل و ماحولیات کو متاثر کرے گی۔ مارسودار دریا کے 25 کلومیٹر (15.5 میل) کے نیچے کا حصہ ہائیڈروولوجیکل تبدیلی کا شکار ہوگا، جس کے اثرات بھارت کی سرحد سے باہر بھی محسوس ہوں گے۔اگرچہ رن آف دی ریور منصوبے بڑے ذخائر کی اجازت نہیں دیتے لیکن یہ اوپر کی جانب پانی کے بہاؤ کے وقت کو قابو کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

امریکی ادارے یوروایشیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے معاہدے کی ذمہ داریوں کو معطل کر کے اور پاکستان سے ہائیڈروولوجیکل ڈیٹا روک کر پانی کو مؤثر طریقے سے اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات پاکستان کے زرعی شعبے، خوراک کی حفاظت اور دیہی کمیونٹیز کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں اور پانی کو دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایک نیا اسٹریٹجک محاذ بنا دیتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں جہاں انڈس دریا پر منحصر زراعت لاکھوں لوگوں کو روزگار اور خوراک فراہم کرتی ہے، پانی کی جاری غیر یقینی صورتحال معاشی اور سماجی سطح پر منظم خطرات پیدا کرتی ہے۔ بھارت کا رویہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح تک پہنچتے ہیں۔ سند ھ طاس معاہدہ کو طویل عرصے سے اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن ممالک کے درمیان بھی پانی کی مشترکہ نگرانی اور تعاون ممکن ہے۔اس معاہدے کا کمزور ہونا ایک مثال قائم کر سکتا ہے جس میں بین الاقوامی پانی کے معاہدے قانونی پابندیوں کے بجائے سیاسی مفاد کے تابع ہو جائیں۔

یہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے تشویشناک ہے جو ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت سے پہلے ہی متاثر ہیں۔گلیشئر کے پگھلنے، غیر معمولی مون سون اور تازہ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، پانی کے لیے مقابلہ بڑھا رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی معاہدوں کی مضبوطی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ دنیا کے سب سے کامیاب بین الاقوامی پانی کے معاہدوں میں سے ایک کو کمزور کرنا پانی کو سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کے عالمی رجحان کو بڑھا سکتا ہے۔

لہٰذا، دلہستی اسٹیج-II صرف ایک ہائیڈروپاور منصوبہ نہیں ہے۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ آیا سندھ طاس معاہدہ موثر رہے گا یا صرف ایک مستعمل شدہ دستاویز بن کر رہ جائے گا۔اگر یہ منصوبہ بین الاقوامی نگرانی اور ڈیٹا شیئرنگ کے مؤثر میکانزم کے بغیر آگے بڑھا تو یہ یک طرفہ اقدامات کو فروغ دے گا، اعتماد میں کمی پیدا کرے گا اور پانی کو اسٹریٹجک دباؤ کے ہتھیارکے طور پر مضبوط کرے گا۔ سندھ طاس معاہدہ کا تحفظ اب صرف دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا ، یہ علاقائی خوراک کی حفاظت، ماحولیاتی لچک اور تنازعہ کے روک تھام سے جڑا ہے۔