بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث زندگی کے تمام شعبے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے اگر ایک طرف لاکھوں انسان متاثر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف پرندے بھی اس سے محفوظ نہیں۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، انڈس فلائی وے پر ہجرت کرنے والے پرندے خطرات سے دوچار

مزید خبریں
پشاور۔ 19 جولائی (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث زندگی کے تمام شعبے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے اگر ایک طرف لاکھوں انسان متاثر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف پرندے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ پاکستان کے انڈس فلائی وے کے ساتھ سالانہ کثیر تعداد میں مختلف قسم کے پرندے ہجرت کرتے ہیں تاہم ان مہاجر پرندوں کو گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل رکھنے، موسمیاتی تبدیلی اور میٹھے پانی کی دستیابی میں کمی کی وجہ سے ماحولیاتی چیلنجز درپیش ہیں۔
خطرے سے دوچار انڈس ڈولفن، مہاشیر اور ٹراؤٹ مچھلیوں کےلیے شدید خطرات پیدا کرنے کے علاوہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فاشسٹ مودی حکومت کے غیر قانونی اقدام کے بعد پاکستانی ویٹ لینڈز کی طرف مغربی دریاؤں کے میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو ہجرت کرنے والے آبی پرندوں کی آبادی بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ہر موسمِ سرما میں لاکھوں ہجرت کرنے والے پرندے قدرت کے سب سے شاندار سفروں میں سے ایک کا آغاز کرتے ہیں جو سائبیریا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے برفانی خطوں سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے پاکستان کے نسبتاً گرم ویٹ لینڈز، جھیلوں اور دریاؤں کے نظام تک پہنچتے ہیں۔ یہ ویٹ لینڈز فوڈ چین میں اہم کردار ادا کرنے اور اپنی ہجرت جاری رکھنے سے پہلے پرندوں کی کئی اقسام کےلیے خوراک حاصل کرنے کے اہم مقامات، آرام گاہوں اور افزائشِ نسل کے مسکن کے طور پر کام کرتی ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محمد ممتاز ملک نے قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈس فلائی وے تزویراتی طور پر اہم پوزیشن پر واقع ہے، جو وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے جوڑنے والے دنیا کے بڑے مہاجر پرندوں کے راستوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر پرندے ہر موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے بڑی تعداد میں پاکستان پہنچتے ہیں اور خوراک، پناہ گاہ اور افزائشِ نسل کےلیے پاکستان کے ویٹ لینڈز اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر پرندے چترال سے گزرنے کے بعد اکثر پانی اور خوراک کی ضروریات کےلیے دریائے سندھ پر بنی تربیلہ ڈیم پر پڑاؤ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ویٹ لینڈز خاص طور پر تربیلہ ڈیم کو میٹھے پانی کی پائیدار فراہمی میں کسی بھی قسم کی کمی ان پرندوں کی بقا، افزائشِ نسل کی کامیابی اور ہجرت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق مالارڈ، کامن ٹیل، نارتھن پن ٹیل اور نارتھن شوولر جیسی اقسام کی آمد ہر سال نومبر اور مارچ کے درمیان پاکستان کی جھیلوں اور آبی ذخائر کو جنگلی حیات کی سرگرمیوں کے فروغ پزیر مراکز میں تبدیل کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سالانہ ہجرتیں محض موسمی واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک ماحولیاتی مظہر ہیں جو صدیوں سے جاری ہے۔ صحت مند ویٹ لینڈز اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ہجرت کرنے والے پرندے اپنے سفر کو محفوظ طریقے سے مکمل کریں اور ساتھ ہی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھیں۔ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ دریائے سندھ پر واقع تربیلہ جھیل ملک کے میٹھے پانی کے اہم ترین مسکنوں میں شامل ہے، جو بطخوں، ہنس، کونجوں، شکاری پرندوں، تلور اور بے شمار دیگر مہاجر اقسام کو پناہ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ میٹھے پانی کا کم ہوتا ہوا بہاؤ، سکڑتے ویٹ لینڈز اور بگڑتے ہوئے ماحولیاتی حالات ان مسکنوں کی افادیت کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں اور ماحولیاتی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ویٹ لینڈز، دریا اور ساحلی ماحولیاتی نظام زیادہ تر سندھ میں لاکھوں مہاجر پرندوں کےلیے ناگزیر پڑاؤ کے مقامات کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان ماحولیاتی نظاموں کی کسی بھی قسم کی تنزلی نہ صرف پرندوں کی آبادی کو بلکہ فوڈ چین کو متاثر کرے گی جو میٹھے پانی کے صحت مند مسکنوں پر انحصار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آلودگی، بھارت کی جانب سے خلاف ورزیاں اور آلودگی لے جانے والے سیلابی پانی کا ضرورت سے زیادہ اخراج، اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے طویل خشک سالی کے باعث خیبر پختونخوا میں ویٹ لینڈز کے ماحولیاتی نظام پر پہلے ہی منفی اثرات مرتب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے پیٹرن تبدیل کر کے، گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کرکے اور سیلاب اور خشک سالی کی تعداد میں اضافہ کرکے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکڑتے ویٹ لینڈز اور ماحولیاتی تنزلی پورے خطے میں ہجرت کو تیزی سے مشکل بنا رہی ہے۔ ویٹ لینڈز، جھیلوں، تالابوں کا تحفظ اور مغربی دریاؤں کے میٹھے پانی کے پائیدار بہاؤ کو یقینی بنانا مہاجر پرندوں کی محفوظ ہجرت اور طویل مدتی بقا کےلیے ضروری ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ پاکستان کے ویٹ لینڈز نے تاریخی طور پر لاکھوں مہاجر پرندوں کا بوجھ اٹھایا ہے کیونکہ دریائے سندھ کا وسیع نظام گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں میٹھے پانی کی جھیلوں، دلدلوں اور سیلابی میدانوں کو سیراب کرتا ہے۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ دریا کے بہاؤ میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث ان نازک ماحولیاتی نظاموں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
خصوصی تشویش کا باعث بننے والے مہاجر پرندوں کے اقسام میں تلور شامل ہے جو ایک ہجرت کرنے والا صحرائی پرندہ ہے اور طویل عرصے سے جنگلی حیات کے شائقین، تحفظ پسندوں اور باز پالنے والوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق یہ قسم اپنی موسمی ہجرت کے دوران انڈس بیسن کے اندر موزوں مسکنوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی نمکیات پہلے ہی آبی زندگی، نباتات اور جنگلی حیات کو متاثر کر رہی ہے۔صوابی کے 50 سالہ رہائشی نصیر خان نے بتایا کہ جب وہ جوان تھے تو تربیلہ جھیل میں ہزاروں بطخیں اور کونجیں بیٹھی نظر آتی تھیں تاہم حالیہ مہینوں میں بظاہر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ان کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات اور پرندوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والی این جی اوز کا جوش و خروش بھی کم ہوا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ جب میٹھے پانی میں کمی آتی ہے اور نمکیات بڑھتی ہیں تو مچھلیاں، پرندے اور آبی پودے اپنے قدرتی مسکن میں زندہ رہنے کےلیے جدوجہد کرتے ہیں اور پورا ماحولیاتی توازن کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید موسم نے پورے ہمالیہ کے خطے میں پانی کے انتظام کو تیزی سے ناقابلِ پیش گوئی بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق مون سون کی ضرورت سے زیادہ بارشیں اور گلیشیئرز کا تیز رفتاری سے پگھلنا تباہ کن فلیش فلڈز کا سبب بن سکتا ہے جبکہ طویل خشک سالی ویٹ لینڈز، جھیلوں اور تالابوں کو خشک کر سکتی ہے، خاص طور پر سندھ، پنجاب اور کے پی میں، جو مہاجر پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کو برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سنگین صورتحال میں، ویٹ لینڈز کیمیکلز اور پلاسٹک کے فضلے سے آلودہ ہو جاتی ہیں جبکہ خشک سالی جھیلوں کو تقریباً بے جان کر دیتی ہے جس سے انسانی بستیوں، جنگلی حیات، شہد کی مکھیوں اور مہاجر پرندوں کےلیے پانی کی دستیابی یکساں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی اثرات سندھ کی ساحلی پٹی میں پہلے ہی نمایاں ہو رہے ہیں جہاں انڈس ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی میں کمی کی وجہ سے سمندری پانی کا پھیلاؤ اندرونِ ملک مزید آگے بڑھ رہا ہے جس سے زرخیز زرعی زمینوں، مینگروو کے جنگلات اور ساحلی حیاتیاتی تنوع کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پانی روکنا انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری بالخصوص عالمی بینک، جس نے 1960 میں اس تاریخی معاہدے کی ثالثی کی تھی، پر زور دیا کہ وہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ فوری طور پر اس غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کو واپس لے اور جانداروں کو بھوک اور فاقہ کشی سے بچانے کے لیے معاہدے کو فوری طور پر بحال کرے۔ ان ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود پاکستان نے جنگلات کے رقبے میں توسیع، تنزلی کا شکار مسکنوں کی بحالی اور محفوظ علاقوں کے قیام کے ذریعے گزشتہ برسوں میں جنگلی حیات کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس سے ملک پن ٹیلز، مالارڈز، ٹیلز، پیلیکنز، کونجوں، ہنس اور تلور کے لیے موسمِ سرما کی ایک اہم پناہ گاہ بنے رہنے کے قابل ہوا ہے۔
تاہم ڈاکٹر ممتاز ملک نے متنبہ کیا کہ ویٹ لینڈز اور جھیلوں کی مسلسل تنزلی تحفظ کی دہائیوں کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں کہا کہ اگر میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کی تنزلی کا سلسلہ جاری رہا تو 90 سے زائد جنگلی حیات کی اقسام بشمول مہاجر بطخیں، سائبیرین کونجیں، ساکر فالکنز ، سفید گدھ، انڈس ڈولفن، ٹراؤٹ مچھلی اور ممالیہ کی کئی اقسام کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محسن فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ دریا کے پانی کے بہاؤ کے مستقل تسلسل کے بغیر جنگلی حیات کا تحفظ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر پرندے سیاسی حدود کو تسلیم کیے بغیر بین الاقوامی سرحدیں عبور کرتے ہیں۔ اس لیے ان کا تحفظ علاقائی ریاستوں کے درمیان تعاون کا تقاضا کرتا ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ چھ نیشنل پارکوں کے قیام کے علاوہ جنگلی حیات اور مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے ضلع مانسہرہ میں ڈھوڈیال فیزنٹری اور کوہاٹ میں ٹوخ منگارا پارک قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بطخوں اور دیگر مہاجر پرندوں کے غیر قانونی شکار پر پابندی عائد ہے جہاں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ جنگلی حیات کے ماہرین اور مقامی لوگوں نے ویٹ لینڈز کے مضبوط تحفظ، ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے قوانین کے سخت نفاذ، محفوظ علاقوں کی توسیع، عوامی آگاہی مہمات کو بڑھانے اور تحفظ کے پروگراموں میں دریاؤں کے مسلسل بہاؤ کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مشترکہ دریاؤں کے ماحولیاتی نظام اور مہاجر پرندوں کے مسکنوں کے تحفظ میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ جب تک ویٹ لینڈز کے تحفظ، پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی تعاون کو مضبوط بنانے کےلیے فوری اقدامات نہیں کیے جاتے، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی نظام کی خدمات اور میٹھے پانی کے صحت مند وسائل پر منحصر ذرائع معاش میں طویل مدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویٹ لینڈز کا تحفظ نہ صرف مہاجر پرندوں کےلیے ضروری ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور آنے والی نسلوں کےلیے قدرتی ورثے کی حفاظت کےلیے بھی ناگزیر ہے۔







