پاکستان کو اہم سفارتی و قانونی کامیابی حاصل ہوگئی، ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت ( پی اے سی ) نے بھارت کی جانب سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’معطل‘‘ کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے
بھارت کے لیے بین الاقوامی شرمندگی: ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد/دی ہیگ۔31اگست (اے پی پی):پاکستان کو اہم سفارتی و قانونی کامیابی حاصل ہوگئی، ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت ( پی اے سی ) نے بھارت کی جانب سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’معطل‘‘ کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ عدالت نے معاہدے کی حیثیت پر حتمی فیصلہ ایوارڈ آن ٹریٹی اسٹیٹسAward on Treaty Status جاری کرنے کے ساتھ ساتھ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق پابند عبوری اقدامات کا حکم بھی جاری کردیا۔ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کے اس یکطرفہ مؤقف کو مسترد کردیا کہ 1960ء کا معاہدہ معطل ہوچکا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھارت اپنے بین الاقوامی وعدوں کا پابند ہے اور وہ یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار یا اس کی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کرسکتا۔اپریل 2025ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک ’’معطل‘‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا جب تک پاکستان اس کی سیاسی شرائط تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم مستقل ثالثی عدالت نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ’’معطلی‘‘ کی اصطلاح کو معاہدے کی پابندیوں سے یکطرفہ طور پر فرار کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کے پاس معاہدے کے قانون یا بین الاقوامی رواجی قانون کے تحت ایسا کوئی قانونی جواز موجود نہیں جس کی بنیاد پر وہ یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرسکے۔
عدالت نے خودمختاری کے دعوؤں، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات اور حالات میں بنیادی تبدیلی سمیت بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے قانونی مؤقف کا بھی جائزہ لیا۔مستقل ثالثی عدالت نے pacta sunt servanda کے بنیادی اصول پر بھی زور دیا، جس کا مطلب ہے کہ فریقین کو اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنا لازم ہے۔ عدالت کے مطابق بھارت معاہدے کے تحت عائد اپنی پابند ذمہ داریوں سے یکطرفہ طور پر انحراف نہیں کرسکتا۔عدالت نے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ (RHEP) سے متعلق بھی متفقہ طور پر پابند عبوری حکم جاری کیا۔ حکم کے تحت بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک ڈھانچے کی کنکریٹنگ مخصوص سطح سے آگے بڑھانے سے روک دیا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کرنا ہوگی، جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔رتلے منصوبے سے متعلق یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک معاہدے کے تحت مقرر غیر جانبدار ماہر منصوبے کے ڈیزائن کے معاہدے سے مطابقت رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کرتا۔ اس فیصلے کے بعد مزید 90 روز تک بھی عبوری پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ثالثی عدالت نے بھارت کو منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے شیڈول سے متعلق باقاعدہ رپورٹس جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ شفافیت اور عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔
فیصلے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کی جانب سے اختیار کیے گئے یکطرفہ اقدامات کو قانونی چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کو معاہدے کے طے شدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اپنے تنازعات حل کرنا ہوں گے۔عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بھارت کے لیے مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے سندھ طاس معاہدے میں طے کردہ ذمہ داریوں اور طریقہ کار کی پابندی مزید اہم ہوگئی ہے، جبکہ پاکستان کے آبی حقوق سے متعلق قانونی مؤقف کو بھی تقویت ملی ہے۔








