اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر آہلو والا گاورف کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے 2 اور 5 مئی کو بھارتی فو ج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔ 2مئی کو بھارتی فورسز کی جانب سے رکھ چکری سیکٹر میں بلااشعتال فائرنگ کے نتیجہ میں 15 سالہ نوجوان طاہر …
بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب ، 2 اور 5 مئی کو بھارتی فو ج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر آہلو والا گاورف کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے 2 اور 5 مئی کو بھارتی فو ج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔ 2مئی کو بھارتی فورسز کی جانب سے رکھ چکری سیکٹر میں بلااشعتال فائرنگ کے نتیجہ میں 15 سالہ نوجوان طاہر حفیظ شہید اور اس کی 9 سالہ بہن طاہرہ زخمی ہوئی جبکہ 5 مئی کو بھارتی قابض فورسز کی جانب سے کنٹرول لائن پر ہاٹ سپرنگ اور کوٹ کوٹیرا سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ سے نسرین بی بی اور اور اس کا 12 سالہ بچہ محمد زاہد شہید جبکہ سونیا بی بی نامی خاتوں شدید زخمی ہو گئی تھیں۔ بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹڑ محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری کے ساتھ شہری آبادی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہی ہے،2017ءسے لے کر اب تک بھارتی فورسز نے 1970ءسے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور انسانی وقار، عالمی قوانین اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کےلئے خطرہ ہیں اور کسی بھی تزویراتی غلط فہمی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ 2003ءکے جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور دوسرے واقعات کی تحقیقات کرائے اور بھارتی فوج کو ہدایت کرے وہ جنگ بندی کا مکمل احترام کرے۔








