بیروت دھماکوں کے بعد سیاسی بحران،لبنانی وزیراعظم حسن دیاب کا کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا اعلان ، بندرگاہ دھماکے کرپشن کا نتیجہ تھے، ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے مطالبے پر عوام کے ساتھ ہوں، حسن دیاب کا قوم سے خطاب

بیروت۔ 10 اگست (اے پی پی) لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران باضابطہ طور پر مستعفی ہونے اور کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا، بیروت دھماکوں کے بعد لبنانی حکومت پر مستعفی ہونے کیلئے عوام کا شدید دبائو تھا اور گزشتہ کئی روز سے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے جاری تھے۔ ذرائع ابلاغ کے …

بیروت۔ 10 اگست (اے پی پی) لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران باضابطہ طور پر مستعفی ہونے اور کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا، بیروت دھماکوں کے بعد لبنانی حکومت پر مستعفی ہونے کیلئے عوام کا شدید دبائو تھا اور گزشتہ کئی روز سے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے جاری تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے پیر کے روز قوم سے خطاب کے دوران کابینہ سمیت باضابطہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا، انہوں نے کابینہ سمیت استعفی صدر کو پیش کر دیئے۔ حسن دیاب نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیروت سانحہ اتنا بڑا ہے کہ میں بیاں نہیں کر سکتا، بندرگاہ دھماکے کرپشن کا نتیجہ تھے، ملک میں بدعنوانی کی جڑیں ریاستی نظام سے زیادہ مضبوط ہیں اور سیاسی طبقوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے مطالبے میں عوام کے ساتھ ہیں اور ان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ بیروت میں دھماکوں کے بعد عوام نے حکومت مخالف مظاہرے شروع کر دیئے تھے، مظاہرین نے لبنانی حکومت کو دھماکوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ بیروت دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔

مزید خبریں