بین الاقوامی تعاون کیلئے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے عالمی رہنمائوں کی گول میز کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کردیاگیا

بیجنگ ۔ 27 اپریل (اے پی پی)بین الاقوامی تعاون کیلئے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے عالمی رہنمائوں کی گول میز کانفرنس کے اختتام پر ہفتہ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ فورم کی صدارت چین کے صدر ژی جن پنگ نے کی جبکہ پاکستان، آذربائیجان، بلاروس، برونائی، چلی، قبرص، جمہوریہ چیک، جبوتی، مصر، قازقستان، کینیا، قرغستان، لائوس، منگولیا، موزمبیق، نیپال، فلپائن، پرتگال، روس، سربیا، سوئٹزلینڈ، تاجکستان، ازبکستان، یو اے …

بیجنگ ۔ 27 اپریل (اے پی پی)بین الاقوامی تعاون کیلئے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے عالمی رہنمائوں کی گول میز کانفرنس کے اختتام پر ہفتہ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ فورم کی صدارت چین کے صدر ژی جن پنگ نے کی جبکہ پاکستان، آذربائیجان، بلاروس، برونائی، چلی، قبرص، جمہوریہ چیک، جبوتی، مصر، قازقستان، کینیا، قرغستان، لائوس، منگولیا، موزمبیق، نیپال، فلپائن، پرتگال، روس، سربیا، سوئٹزلینڈ، تاجکستان، ازبکستان، یو اے ای، آسٹریا، کمبوڈیا، اتھوپیا، ہنگری، ملائیشیا، اٹلی، میانمر، پاپوا نیو گنی، تھائی لینڈ، ویتنام اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔فورم میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹرس اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹائن لیگارڈ کی شرکت کا خیرمقدم کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق فورم کا انعقاد ایسے وقت میں کیا گیا جبکہ عالمی معیشت کو بڑھتے ہوئے مواقع اور چینلجوں کا سامنا ہے جو دنیا میں تیز رفتار تبدیلیوں سے مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اعلامیہ میں عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے کثیر الجہتی کے تعاون کے استحکام کو ناگزیر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اوپن، انکلوژو، باہمی مربوط اور پائیدار عالمی معیشت تمام ملکوں کی اقتصادی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ قدیم شاہراہ ریشم عالمی تعاون کو فروغ دینے ، مساوی اور باہمی مفاد کے جذبہ کے تحت روابط اور عالمی معیشت کی توسیع میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہم بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو اور دیگر تعاون پر مبنی فریم ورک کے تحت ان جذبوں کی بحالی کے متمنی ہیں۔اعلامیہ میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں پیدا کردہ اہم مواقعوں اور پیشرفت بالخصوص انفراسٹرکچرز، سرمایہ کاری میں اضافہ، اقتصادی کوریڈور، اقتصادی، تجارتی زونز، صنعتی پارکس، مالی و تجارتی تعاون، انوویشن اور ٹیکنالوجی، میری ٹائم تعاون، کاروباری تعلقات، عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو سراہا گیا۔ اس قسم کا تعاون ترقی کی نئی راہیں متعین اور اقتصادی و سماجی ترقی کیلئے نئی صلاحیتوں پر آمادہ کرتا ہے۔ ترقیاتی پالیسی، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، بلارکاوٹ تجارت، مالی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا اور اس مقصد کیلئے شراکتداروں کی جانب سے مزید کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ اس قسم کا تعاون وسیع تر مشاورت، مشترکہ کوششوں، مشترکہ اور باہمی فوائد کی بنیاد پر استوار ہوگا۔ قانون کی حکمرانی کی اہمیت اور تمام کیلئے مساوی مواقع پر زور دیا گیا۔اعلامیہ میں ان تمام ملکوں کو تعاون کیلئے مساوی شراکتدار قرار دیا گیا جو شفافیت اور شمولیت اور کشادہ پن کا احترام کرتے ہوں۔ہم ہر ملک کی علاقائی استحکام اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اپنی قومی ترجیحات اور قانون سازی کے مطابق اپنی ترقیاتی حکمت عملی کو وضع کرنا ہر ملک کا بنیادی حق اور ذمہ داری ہے۔ہم کھلی معیشت اور انکلوژو، غیرامتیازی عالمی مارکیٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ تمام خواہشمند ملکوں کو ہم اس تعاون میں شمولیت کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی تحفظ کے چیلنجوں پر قابو پانے اور گرین ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے پیرس معاہدہ پر عملدرآمد اور تمام ملکوں کے مابین تعاون ناگزیر ہے۔ہم کرپشن کے خاتمہ اور سالمیت کی ثقافت کی تعمیر میں مزید کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں ملکی قوانین، ریگولیٹری فریم ورکس، بین الاقوامی ذمہ داریاں، عالمی معیارات اور اصولوں کے اندر مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق روابط، شرح نمو میں اضافے، اقتصادی و سماجی ترقی، مصنوعات اور خدمات میں تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے انتہائی ناگزیر ہیں۔ اس سلسلہ میں شفافیت، کشادہ پن کی بنیاد پر روابط سے متعلق اور حال ہی میں پارٹنر شپ کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔گول میز کانفرنس کے شرکاء نے مشترکہ اقتصادی اور سماجی خوشحالی کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی سمیت تمام سطح پر تعاون کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔کانفرنس کے شرکاء نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ساتھ عالمگیر، قواعد پر مبنی اوپن، شفاف اور غیرامتیازی کثیر الجہتی تجارتی سسٹم کے کانفرنس کے شرکاء نے حمایت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے ترقی کے حصول کیلئے میکرو اکانومک پالیسیوں کا خیرمقدم اور پائیدار اقتصادی ایجنڈے سے متعلق بحث کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔شرکاء نے یو این اور دیگر کثیر الجہتی فورمز پر میکرو اکانومک پالیسی ڈائیلاگ میں اضافہ کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اعلامیہ میں افریقن یونین، ایپک عرب لیگ، آسیان، یورپی یونین ایسٹرن پارٹنرشپ، یورو ایشین اکنامک یونین، یورو ایشین پارٹنرشپ سمیت دیگر فریم ورکس اور انیشیٹوز کے مواقعوں سے بھی استفادہ کرنے پر زور دیا گیا۔اعلامیہ میں تجارت اور سرمایہ کی لبرلائزیشن اور سہولت کاری کو عملی جامہ پہنانے کا عزم ظاہر کیا اور کہا گیا کہ ہم اپنی منڈیاں مزید کھولنے اور پروٹیکشن ازم کو مسترد کرنے کیلئے تیار ہیں۔اعلامیہ میں کسٹمز سہولتوں میں بہتری کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم بارڈر کلیئرنس، باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور ٹرانزٹ کے طریقہ کار کے حوالہ سے متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اعلامیہ میں تمام ملکوں کے مقامی اور بین الاقوامی قواعد کے تناظر میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری، ٹیکس کے امور اور جوائنٹ وینچرز سے متعلق تعاون کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ فورم کے شرکاء نے انٹرنیشنل میری ٹائم تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔خشکی میں گھرے ممالک کو لینڈ لنکڈ میں تبدیل کرنے کی بھی حمایت کی گئی۔ہم اعلیٰ معیاری، قابل بھروسہ اور پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ہم ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترقی پذیر ممالک میں رابطوں کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر روابط میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ہم رکن ممالک کے مابین فضائی، زمینی اور بحری روابط کی کی غرض سے انفراسٹرکچر کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔انرجی سیکورٹی میں اضافہ کیلئے انرجی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور زمین کو تنزلی سے بچانے اور ماحولیاتی تحفظ ، سرکولر معیشت، صاف توانائی اور واٹر مینجمنٹ کیلئے باہمی تعاون بڑھانے کا عزم کیا گیا۔ہم پائیدار زراعت، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ڈیزاسٹر رسک میں کمی اور مینجمنٹ تعاون بڑھانے کی حمایت کرتے ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہم کرپشن کے خاتمہ کیلئے بین الاقوامی تعاون اور بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہ کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔مشترکہ خوشحالی کیلئے عملی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا گیا۔ہم خشکی میں گھرے ممالک میں واٹر ویز ، سڑکوں، ریلوے نیٹ ورکس، فضائی، سی پورٹس اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پائپ لائنز کی تعمیر سمیت کثیر الجہتی ماڈل ٹرانسپورٹیشن کی حمایت جاری رکھیں گے۔ہم ٹرانزنیشنل فائبر آپٹک ہائی ویز، ای کامرس اور سمارٹ سٹیز سمیت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں پانی کی بچت سے متعلق ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ایگریکلچر انویشن کی اہمیت پر زور دیا گیا۔سائنس ، ٹیکنالوجی، ثقافت، آرٹس، تخلیقی معیشت، رورل ڈیولپمنٹ، فوک کرافٹس، آرکیالوجی، ٹورازم، سیاحت، سپورٹس سمیت دیگر شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو تیز کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہم پارلیمنٹرینز، صوبوں، شہروں، تھنک ٹینکس، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹیز اور خواتین کے مابین روابط کا خیرمقدم کرتے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق اقتصادی کوریڈورز اور روابط کے دیگر منصوبوں میں عدیس ابابا۔جبوتی اقتصادی کوریڈور، آگوا نیگرا پاس انٹرنیشنل ٹنل، باقو تبلیسی کارز نیو ریلوے لائن اور آلائف فری اقتصادی زونز باقو، برونائی گوانگ ژی اکنامک کوریڈور، چائنا سٹنرل ایشیا ویسٹ ایشیا اکانومی کوریڈور، چائنا۔یورلینڈ۔سی ایکسپریس لائن، چائنا ملائیشیا کنزو انڈسٹریل پارک، چائنا منگولیا۔روس اکانومی کوریڈور،چائنا۔میانمر، پاک چین اقتصادی کوریڈور سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں۔

Leave a Reply