اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں منعقد ہونے والی بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے کامیاب اختتام کے بعد مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران نے وفود کو پرتپاک انداز میں الوداع کہا۔ روانگی کے موقع پر غیر ملکی پارلیمانی نمائندگان نے پاکستان کی میزبانی، شاندار انتظامات اور بین الپارلیمانی …
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کے بعد مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود کی وطن واپسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں منعقد ہونے والی بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے کامیاب اختتام کے بعد مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران نے وفود کو پرتپاک انداز میں الوداع کہا۔ روانگی کے موقع پر غیر ملکی پارلیمانی نمائندگان نے پاکستان کی میزبانی، شاندار انتظامات اور بین الپارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔
جمہوریہ کانگو کے وفد کی قیادت میں پراسپر کاسانگو لوکالی تونڈا (رکنِ پارلیمنٹ) نے کی۔روانگی کے موقع پر مسٹر تونڈا نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں ہونے والی کانفرنس کو مؤثر اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی امن، پارلیمانی تعاون اور باہمی ترقی کے فروغ کے لیے کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔فلسطینی پارلیمانی وفد کی قیادت روحی اے۔ ایم۔ فتوح (اسپیکر نیشنل کونسل) نے کی، جبکہ مسٹر سامح اکرم سعدالدین قطامی بھی وفد میں شامل تھے۔روحی فتوح نے چیئرمین سینیٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انصاف کے لیے آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کانفرنس کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
لبنانی وفد میں ابراہیم الموسوی اور جہاد السمد (اراکینِ پارلیمنٹ) شامل تھے۔ابراہیم الموسوی نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی اور کانفرنس کے انتظامات شاندار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے بین الپارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔اردنی وفد کی قیادت توفیق کریشان (رکن پارلیمنٹ و سربراہِ وفد) نے کی، ان کے ہمراہ راکان حمادہ الفواز اور ندال عودااللہ شامل تھے۔توفیق کریشان نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس علاقائی تعاون اور عالمی امن کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یو اے ای کے وفد کی قیادت ڈاکٹر طارق حمید الطائر (فرسٹ ڈپٹی سپیکر، فیڈرل نیشنل کونسل) نے کی۔ان کے ہمراہ محمد عیسی الکاشف، میر احمد الخوری، عبداللہ العلیلی، اور سعید المہیری شامل تھے۔ڈاکٹر الطائر نے کہا کہ پاکستان نے بین الپارلیمانی سفارت کاری کے میدان میں نئی مثال قائم کی ہے اور یہ فورم علاقائی امن اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
روانڈا کے وفد کی قیادت فرانسوا زیوائر (صدرِ سینیٹ) نے کی۔ان کے ہمراہ ہوپ کییبانڈا، کامراد موآندیمو، منٹانزی گاہومورانیزا، لیفٹیننٹ کرنل کالیسہ فرانک اور کیپٹن گیٹے اوسوالڈ شامل تھے۔صدر زیوائر نے کہا کہ پاکستان نے جس جذبے اور پروفیشنل انداز میں کانفرنس کا انعقاد کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔الجزائر کے وفد کی قیادت مسٹر سعد عروس (رکن پارلیمنٹ) نے کی جبکہ امان دِرّاج (ڈیلگیشن سیکرٹری) ہمراہ تھے۔سعد عروس نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے بین الپارلیمانی تعاون کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جو اسلامی دنیا کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔کیمرون کے وفد کی قیادت کوماسے سائمن (رکن پارلیمنٹ) نے کی، ان کے ہمراہ مسٹر امین احمد امین (ڈائریکٹر اسپیشل ڈیوٹیز) تھے۔وفد نے کہا کہ پاکستان نے ایک ایسی کانفرنس منعقد کی جو باہمی احترام، شراکت داری اور امن کے پیغام کی عکاس ہے۔
شامی وفد کی قیادت ڈاکٹر محمد طہ (چیئرمین سپریم الیکشن کمیشن) نے کی جبکہ ڈاکٹر عماد برق بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر طہ نے کہا کہ یہ کانفرنس علاقائی اور عالمی سطح پر پارلیمانی تعاون کے ایک نئے باب کی شروعات ہے۔روسی وفد کی قیادت کونستانتِن (ڈپٹی اسپیکر فیڈریشن کونسل) نے کی، ان کے ہمراہ مسٹر او۔اے۔ بیلیاکوف اور دیگر سینیٹرز شامل تھے۔کونستانتِن نے کہا کہ پاکستان نے بین الپارلیمانی تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جو عالمی سطح پر امن و تعاون کے فروغ کے لیے اہم قدم ہے۔
پی یو آئی سی کے وفد کی قیادت محمد خوریچی نیاس (سیکرٹری جنرل پی یو آئی سی) نے کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ورلڈ مشن کے وفد کی قیادت سِنگ-یون ڈو (ڈائریکٹر جنرل) نے کی، ان کے ہمراہ موتویاما کاتسویوشی، مسٹر ماسائیچی ہوری، اور کاجیکوری ماساتاتے شامل تھے۔وفد نے کہا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے ذریعے دنیا کو امن، تعاون اور ترقی کا پیغام دیا گیا ہے۔تمام وفود نے پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کانفرنس کے مثبت اثرات عالمی سطح پر دیرپا ہوں گے۔








