اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سفاک طالبان کی انسانی حقوق خلاف ورزیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے باعث عالمی برادری کے دو ٹوک اقدامات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ آسٹریلیا نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر اظہار تشویش، قابض طالبان کے مسلسل جبر کی شدید مذمت کی ہے۔ آسٹریلوی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی کیلئے دنیا کے …
جابر طالبان کیخلاف عالمی برادری کا واضح موقف، آسٹریلیا کا افغانستان کے خلاف خود مختار پابندیوں کا فریم ورک تیار

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سفاک طالبان کی انسانی حقوق خلاف ورزیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے باعث عالمی برادری کے دو ٹوک اقدامات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ آسٹریلیا نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر اظہار تشویش، قابض طالبان کے مسلسل جبر کی شدید مذمت کی ہے۔
آسٹریلوی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی کیلئے دنیا کے پہلے خود مختار پابندیوں کے فریم ورک کا نفاذ کر دیا گیا ۔فریم ورک کے تحت آسٹریلیا کو طالبان پر براہ راست پابندیاں اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔فریم ورک اقوام متحدہ کے تحت موجود 140 طالبان اہلکاروں کی فہرست پر دبائو بڑھائے گا۔افغانستان کو اسلحہ اور متعلقہ مواد یا خدمات فراہم کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
تین نام نہاد طالبان وزراء اور چیف جسٹس پر بھی مالی اور سفری پابندیاں عائد کر دی گئیں۔فریم ورک افغانستان میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور گورننس کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کو نشانہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔کابل کے سقوط کے بعد سے آسٹریلیا افغانستان کو 260 ملین ڈالر سے زائد کی انسانی امداد فراہم کر چکا ہے۔افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں خطہ کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں جن کی نشاندہی بارہا پاکستان کئی فورمز پرکر چکاہے۔








