جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں فرق ہے، پی ٹی آئی کی تاریخ پرامن رہنے کی نہیں ہے، ایک دن کے دھرنے سے پاکستانی قوم کو تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ،وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا پریس کانفرنس سے خطاب

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں فرق ہے، پی ٹی آئی کی تاریخ پرامن رہنے کی نہیں ہے، ایک دن کے دھرنے سے پاکستانی قوم کو تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ،وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں فرق ہے، پی ٹی آئی کی تاریخ پرامن رہنے کی نہیں ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا واضح حکم ہے کہ شہریوں کی آمد و رفت اور نقل و حمل میں خلل نہیں ڈالا جائے گا، معیشت کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا، ایک دن کے دھرنے سے پاکستانی قوم کو تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جس سے تاجر، دکاندار، تنخواہ دار طبقہ، ایکسپورٹرز اور صنعتکار متاثر ہوتے ہیں، سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سڑکیں بند کرنے اور جلائو گھیرائو کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر احتجاج کرنا ہے تو پشاور میں کیا جا سکتا ہے اور مطالبات عوام کے سامنے رکھے جا سکتے ہیں، اس کے لیے اسلام آباد آنا ضروری نہیں، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو صوبے کی ترقی پر توجہ دینی چاہئے، گزشتہ 13 سال سے ان کی حکومت ہے لیکن کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نظر نہیں آئے، صوبے کے وسائل احتجاجی جلسوں جلوسوں پر اڑائے جا رہے ہیں، فرانزک لیبارٹریز کے لئے بھی خیبر پختونخوا کو پنجاب کی مدد لینا پڑتی ہے، وفاق نے نیشنل ایکشن پلان کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کو این ایف سی کی مد میں ساڑھے آٹھ سو ارب روپے فراہم کئے جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

وہ منگل کو یہاں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق گورنر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا، اختیار ولی خان، ایم پی ایز طارق اعوان، جلال خان، علی خادم حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنے دورہ خیبر پختونخوا کا آغاز کوہاٹ سے کیا جہاں انہوں نے کوہاٹ کے دل خراش واقعہ میں زخمی ہونے والوں سے سی ایم ایچ کوہاٹ میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے حوصلے قابل تحسین تھے، خیبر پختونخوا بہادر لوگوں کی دھرتی ہے اور ہنگو و کوہاٹ واقعات میں زخمی ہونے والے افراد نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوہاٹ میں پولیس کانسٹیبل شہید فہیم اللہ کے گھر جا کر ان کے والد سے بھی ملاقات کی جنہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے کوہاٹ کے سیاسی و سماجی عمائدین، چیمبر آف کامرس اور لائرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پشاور پریس کلب کو رپورٹنگ کے حوالے سے منفرد حیثیت حاصل ہے۔ افغان جنگ اور بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران دنیا کے بڑے صحافتی اداروں کے نمائندے پشاور آتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا اور اس واقعہ میں لوگ شہید ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ وفاقی وزیر نے دہشت گردی کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشاور پریس کلب کے صدر سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے کہ دوران سروس شہید یا وفات پانے والے ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کی فہرست مرتب کی جائے، ان کے خاندانوں کی صورتحال اور متعلقہ میڈیا اداروں کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کا جائزہ لیا جائے تاکہ ان کی مدد کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات دیے جاتے ہیں، ان سے بھی بات کی جا سکتی ہے تاکہ شہداء کے خاندانوں کی کفالت کے لیے پیکیج تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پیکیج اور دوران سروس وفات پانے والے صحافیوں کے لیے پیکیج کے حوالے سے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس پر بھی فوری طور پر کام کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ پشاور کے ورکنگ جرنلسٹس کے لیے اس کا جلد از جلد اجرا ہو۔ انہوں نے پشاور پریس کلب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پریس کلب قومی بیانیے اور قومی معاملات کے حوالے سے متوازن کردار ادا کر رہا ہے جبکہ یہاں کے ورکنگ جرنلسٹس بھی قومی امور بالخصوص دہشت گردی کے خلاف رپورٹنگ میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کا بھی دورہ کیا جہاں مہتمم مولانا راشد الحق اور جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبدالحق ثانی سے ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ طاہر اشرفی اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام بھی وہاں موجود تھے جن سے پیغام امن کو آگے بڑھانے اور دین اسلام کی اصل روح کے مطابق معاملات کو آگے لے جانے کے حوالے سے مثبت بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اکوڑہ خٹک کے دورے کے دوران مفتی محمد ادریس، مولانا حامد الحق اور مولانا سمیع الحق شہید کے لیے دعا کی گئی اور جامعہ کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا گیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت جو 9 مئی کے واقعہ میں نذر آتش کی گئی تھی، وزیراعظم کی ہدایات پر چھ ماہ میں مکمل کر کے دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان میں جدید سٹوڈیوز موجود ہیں اور پشاور پریس کلب کے صحافی پوڈکاسٹس کے لیے ان سٹوڈیوز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈی جی ریڈیو پاکستان کو ہدایت کی کہ صحافیوں کو سٹوڈیوز کی سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر طریقہ کار وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ایک قومی اثاثہ ہے اور اس کے دروازے صحافیوں کے لیے کھلے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا اعلان ریڈیو سٹیشن لاہور سے ہوا تھا جبکہ پشتو زبان میں اس کا اعلان عبداللہ جان نے ریڈیو پاکستان پشاور سے کیا تھا، اس لیے یہ ادارہ ہماری قومی تاریخ کا اہم اثاثہ ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے بارہ سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، صوبے میں اچھے ہسپتال، یونیورسٹیاں، کالجز، سکول، صحت کی سہولیات، صاف پانی، پل اور سڑکوں سمیت ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ یہاں حکومت کی توجہ صحت، تعلیم اور سماجی مسائل پر ہونی چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلیفونک رابطے کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ موٹر سائیکل، چنگ چی، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پٹرول ریلیف دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اربوں روپے کا ریلیف ہے جو پورے پاکستان میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے لانگ مارچ موخر کرنے کے حوالے سے مشاورت کی بات کی ہے جبکہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت کی ان سے ملاقات بھی ہوگی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اچھے پارلیمنٹیرین ہیں تاہم یہ سوال موجود ہے کہ کیا کسی فیصلے کا اختیار ان کے پاس ہے یا کسی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل عوام کے وسائل ہیں اور انہیں سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج اور پی ٹی آئی کے احتجاج میں فرق ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے۔ ان کی تاریخ پرامن رہنے کی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وفاق سے وسائل نہ ملنے کا منفی بیانیہ بنایا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کائونٹر ٹیررازم کی مد میں این ایف سی کے تحت صوبے کو ہر سال حصہ ملتا ہے۔ این ایف سی 2010ء سے شروع ہوا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ایف سی کے تحت ملنے والی رقم کو امن و امان پر کہاں خرچ کیا گیا اور اس کا حساب دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹمبر، ٹوبیکو، مائنز اینڈ منرلز اور گولڈ سمیت مختلف شعبوں میں ٹھیکے من پسند افراد کو دیئے گئے، یہاں غیر قانونی مائننگ ہو رہی ہے، صوبائی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ صوبائی حکومت کو اپنے محصولات میں اضافے اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں کوہاٹ ٹنل تعمیر ہوئی، موٹر ویز کا جال بچھایا گیا، بجلی کے منصوبے لگائے گئے، ڈیم بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبے میں حکومت ہے، امن و امان کی ذمہ داری کس کی تھی؟ لاہور کے ریگل چوک میں کیپٹن مبین شہید ہوئے تو وہاں سیف سٹی کیمرے کی مدد سے خودکش بمبار کے ہینڈلر کو گرفتار کیا گیا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، صوبائی حکومت نے کبھی سیف سٹی کیمرے لگانے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کائونٹر ٹیررازم کا پیسہ خیبر پختونخوا حکومت کو مل رہا ہے جبکہ پنجاب کو یہ بھی نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ وسائل کا نہیں نیت کا ہے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو پی کے ایل آئی جیسا ہسپتال بنایا جا سکتا تھا، یہ کہتے ہیں کہ امن و امان ہماری ذمہ داری نہیں حالانکہ وفاق سے فنڈز آ رہے ہیں، تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبے ان کی ذمہ داری نہیں ہیں تو پھر یہ کس لئے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ صوبائی ترقیاتی فنڈز سے ایم پی ایز کو دو دو ارب روپے مل جاتے ہیں، کیا ان فنڈز پر خیبر پختونخوا کے عوام کا حق نہیں، کیا عوام کا حق نہیں کہ صوبے میں لیور اور کڈنی ٹرانسپلاٹ قائم ہوں، یہاں پر دانش سکول جیسے سکول بنیں، یونیورسٹیاں، کالج، پل اور سڑکیں بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سارا مسئلہ نیت کا ہے، یہ کہتے ہیں کہ ترقی ہمارا مینڈیٹ نہیں، ان کا مینڈیٹ قیدی کی رہائی ہے تو اس کے لئے قانونی راستہ اختیار کریں، عدالت جائیں، اپیل کریں، نظرثانی کی اپیل دائر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس شاہ خرچیوں، سوشل میڈیا ٹیمز بنانے اور سیاسی مقاصد کے لئے فنڈز ہیں لیکن امن و امان، تعلیم، صحت کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دستیاب وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ امن و امان کی ذمہ داری پوری کرے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کی مدد کے لیے تیار ہے اور جہاں ضرورت ہو تعاون کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا قانونی حکم موجود ہے کہ شہریوں کی آمد و رفت اور نقل و حمل میں خلل نہیں ڈالا جائے گا اور معیشت کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ موخر ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن کے دھرنے سے پاکستانی قوم کو تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جس سے تاجر، دکاندار، تنخواہ دار طبقہ، ایکسپورٹرز اور صنعتکار متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سڑکیں بند کرنے اور جلائو گھیرائو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو پشاور میں کیا جا سکتا ہے اور مطالبات عوام کے سامنے رکھے جا سکتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں خوشی اور غم میں شریک ہونے کی روایات رہی ہیں تاہم گزشتہ تقریباً 15، 16 برس میں سیاست میں نفرت اور تشدد کا عنصر بڑھا ہے۔

پی ٹی آئی کے لیڈر سٹیج سے یہ اعلان کرتے تھے کہ ان کی شادیوں میں نہیں جانا، ان کے غم میں شریک نہیں ہونا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو اپنے رویوں میں نرمی لانا ہوگی، اختلاف عزت کے ساتھ اور تنقید شائستگی اور تعمیری انداز میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں خواتین پر کیسز بنانے کی روایت ڈالی گئی، عدالتوں کے اندر ٹرائل چلائے گئے، ایک بیٹی کو والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، نیب کے کیسز بنائے گئے جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایم پی او قانون کے حوالے سے سوال پر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب نقص امن کا خدشہ ہو اور حالات کشیدہ ہونے کا امکان ہو تو قانون کے تحت انتظامیہ کو عارضی طور پر حراست کے اقدامات کا اختیار حاصل ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے پشاور آتے ہوئے انہیں سڑک کے اطراف کنٹینرز ضرور نظر آئے تاہم راستہ بند نہیں ملا۔

موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ کوہاٹ کے ایک پٹرول پمپ پر انہوں نے تقریباً دس موٹر سائیکل سواروں سے بات کی، ان میں سے کسی ایک موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن ضروری ہے تاکہ جرائم یا دہشت گردی کے واقعات میں ان کے استعمال کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں تاکہ صوبہ محفوظ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق یہ نہیں کہتا کہ امن و امان کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہے بلکہ یہ ضرور کہتا ہے کہ جو ذمہ داری صوبائی حکومت کی بنتی ہے وہ پوری کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگو اور کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعات کے وقت صوبائی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سیف سٹی اور سی ٹی ڈی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ آٹے کی فراہمی کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں گاڑیوں اور آٹے کی بوریوں کی ٹریکنگ کا موثر نظام موجود نہیں تھا جس کے باعث گندم اور آٹے کی ترسیل میں بے ضابطگیوں کے امکانات رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پوری ہو اور آٹے کے نام پر منافع خوری نہ ہو۔ افغانستان کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی ان کے لیے اپنے دل اور گھر کھولے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی اس میزبانی کا احسان نہیں جتایا تاہم افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونا تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر فلسطینی میڈیکل طلبہ کو پاکستان میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات معمول پر آنے تک متعلقہ پالیسی پر نظرثانی مشکل ہوگی۔

مزید خبریں