وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ریڈیو پاکستان پشاور کی جدید ترین نو بحال شدہ عمارت کا افتتاح کر دیا، خیبر پختونخوا بہادر لوگوں کی سرزمین ہے، 9 مئی کے افسوسناک واقعات نے پی ٹی آئی کے "ناپاک عزائم” بے نقاب کئے، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ریڈیو پاکستان پشاور کی جدید ترین نو بحال شدہ عمارت کا افتتاح کر دیا، خیبر پختونخوا بہادر لوگوں کی سرزمین ہے، 9 مئی کے افسوسناک واقعات نے پی ٹی آئی کے "ناپاک عزائم” بے نقاب کئے، عطاء اللہ تارڑ

پشاور۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو ریڈیو پاکستان پشاور کی جدید ترین نو بحال شدہ اور مرمت شدہ عمارت کا افتتاح کر دیا۔ 10 مئی 2023ء کو پی ٹی آئی کے پرتشدد جتھے کی جانب سے عمارت کو آگ لگائے جانے کے بعد بحالی کا یہ منصوبہ 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ریکارڈ پانچ ماہ اور 26 دنوں میں مکمل کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) پشاور کی جدید ترین، نو مرمت شدہ عمارت کا تختی کی نقاب کشائی کر کے باضابطہ افتتاح کیا۔

اس موقع پر خیبر پختونخوا کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا، اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا کےلیے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان، رکن صوبائی اسمبلی ملک طارق اعوان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے ۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی بی سی سعید احمد شیخ نے بتایا کہ بحالی کا منصوبہ 10 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے ریکارڈ پانچ ماہ اور 26 دنوں میں مکمل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10 مئی 2023ء کے افسوسناک واقعے کے بعد پی بی سی پشاور سے نشریات 26 گھنٹوں کے اندر بحال کر دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پی بی سی پشاور کو 14 اگست 1947ء کو پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستان کی آزادی کے اعلان کو نشر کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ اس تاریخی عمارت کا افتتاح 1985ء میں ہوا تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا بہادر لوگوں کی زمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ دھماکے کے ایک زخمی نے انہیں بتایا کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دھماکے کے ایک اور شہید فہیم اللہ کے والد نے بھی اپنے بیٹے کی شہادت پر اطمینان اور فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے بیٹے نے پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کی ہے۔ انہوں نے اسے قابلِ تحسین جذبہ قرار دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سال اور چھ ماہ کی حکومت کے باوجود نہ تو ہسپتال اور نہ ہی سکول مطلوبہ پیمانے پر تعمیر کیے گئے جبکہ صوبے کو پس ماندہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے دانش سکولوں کے نیٹ ورک کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی توڑ پھوڑ اور تباہی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان پشاور پر اس برے مقصد سے حملہ کیا گیا تھا تاکہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو قابلِ اعتماد معلومات اور معیاری تفریح تک رسائی سے محروم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے افسوسناک واقعات نے پی ٹی آئی کے ’’ناپاک عزائم‘‘ کو بے نقاب کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے عوام ان عناصر سے واقف ہیں جنہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کو آگ لگائی، کارگل جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مجسمے کو نقصان پہنچایا اور لاہور میں جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان کے مجسمے کی بے حرمتی قابل مذمت ہے، ان کی بہادری کا اعتراف دشمن فوج نے بھی کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے این ایف سی کے تحت اربوں روپے کے فنڈز حاصل کرنے کے باوجود پشاور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کو مضبوط بنانے اور فرانزک لیبارٹری قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مقابلہ کرنے سے ہچکچا رہی ہے جو ہماری سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس وقت تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی جب تک خیبر پختونخوا سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ چاغی پہاڑ کی یادگارکو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر 9 مئی کے حملے کے دوران جلایا گیا تھا، اسے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور موٹرویز کا نیٹ ورک پھیلانے کے علاوہ کوہاٹ ٹنل بھی تعمیر کی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ملک کی ترقی اور عوامی بہبود کے بجائے اپنی سیاست کو قیدی کی رہائی تک مرکوز کر رکھا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ڈاکٹرز صحت کی بہتر سہولیات کی وجہ سے پیشہ ورانہ پریکٹس کے لیے پنجاب منتقل ہو رہے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا میں صحت کا نظام مختلف چیلنجز کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نعروں یا سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق مقدمات کا فیصلہ صرف عدالتیں ہی کریں گی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے دوران کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی کان کنی اور لکڑی کے ٹھیکے دینے میں ملوث عناصر کا احتساب کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ چھ ماہ سے بھی کم وقت میں ریکارڈ مدت کے اندر پی بی سی پشاور کی بحالی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت قریب ہے جب مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں حکومت بنائے گی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر عطاء الله تارڑ نے نو مرمت شدہ ریڈیو پاکستان کی عمارت کے مختلف شعبوں بشمول اس کے میوزیم کا دورہ کیا اور بحالی کے کام کے معیار کو سراہا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی بی سی سعید احمد شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت کی بحالی کا منصوبہ 10 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے ریکارڈ پانچ ماہ اور 26 دنوں میں مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی 2023ء کے افسوسناک واقعے کے بعد پی بی سی پشاور سے نشریات 26 گھنٹوں کے اندر بحال کر دی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پی بی سی پشاور کو 14 اگست 1947ء کو پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں پاکستان کی آزادی کے اعلان کو نشر کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ اس تاریخی عمارت کا افتتاح 1985ء میں ہوا تھا۔ ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن 1935ء میں برطانوی راج کے دوران قائم کیا گیا تھا اور اسے پی بی سی لاہور کے ساتھ مل کر قومی نشریاتی ادارے سے پاکستان کی آزادی کا اعلان نشر کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔

مزید خبریں