مودی حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے افغان سرزمین اور طالبان رجیم کو استعمال کیے جانے کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت طالبان گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کا اعتراف جرم

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):مودی حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے افغان سرزمین اور طالبان رجیم کو استعمال کیے جانے کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ ایک اور سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا کھلم کھلا اعتراف کر لیا ہے۔سابق بھارتی کرنل شیلندرہ سنگھ نے ایک پروگرام کے دوران پاکستان مخالف بھارتی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
سابق بھارتی فوجی افسر کے مطابق بھارت ہمیشہ یہ چاہے گا کہ پاکستانی فوج کی توجہ پاک افغان بارڈر پر ہی مرکوز رہے اور وہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ الجھی رہے۔کرنل (ر) شیلندرہ سنگھ نے مزید انکشاف کیا کہ مودی حکومت کی باقاعدہ حکمت عملی ہے کہ بلوچستان میں بی ایل اے جیسی کالعدم و شرپسند تنظیموں کی مالی اور عسکری پشت پناہی کی جائے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے حاضر سروس و ریٹائرڈ افسران کے مسلسل اعترافات اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ مودی حکومت پاک فوج کو الجھانے کے لیے افغان سرزمین اور دہشت گرد گروہوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔







