حکومت سماجی تحفظ اور غربت مٹاﺅ پروگرام کے تحت تییم ، لاوارث اور محروم بچوں کےلئے بھی بہبود کے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی سماجی تحفظ و غربت مٹاﺅ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو معیشت ، معاشرت ، سیاست اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے کےلئے بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے ان تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا ہمارا عزم پختہ ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں، حکومت سماجی تحفظ …

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی سماجی تحفظ و غربت مٹاﺅ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو معیشت ، معاشرت ، سیاست اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے کےلئے بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے ان تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا ہمارا عزم پختہ ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں، حکومت سماجی تحفظ اور غربت مٹاﺅ پروگرام کے تحت تییم ، لاوارث اور محروم بچوں کےلئے بھی بہبود کے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے ، یتیم بچوں کی محرومیوں کو دور کرکے انہیں اچھے شہری اور انسان کے طور پر پروان چڑھانا حکومت اور سوسائٹی کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وہ یتامی کے عالمی دن کے موقع پر انجمن فیض الاسلام میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کر رہیں تھیں ۔اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈائریکٹر جنرل عا ئشہ فاروق ، وفاقی و صوبائی محکمہ جات برائے سماجی بہبود کے افسران ، صدر انجمن محمد صدیق اکبر میاں ،جنرل سیکریٹری انجمن راجا فتح خان اور انجمن کے دیگر عہدیداران اور ”اپنا گھر “ کے رہائشی بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ یتیم اور لاوارث بچوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنا ، انہیں باوقار عملی زندگی میں داخل کرنے کےلئے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ہم سب کی ذمہ داری اور اصل نیکی ہے ، انجمن فیض الاسلام گذشتہ پون صدی سے زائد عرصہ سے یہ خدمات انجام دے رہا ہے جس پر وہ ہم سب کے شکرئیے اور داد و تحسین کا مستحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غربت مٹاﺅ پروگرام کے تحت آنے والے منصوبوں میں ہم محروم و مجبور بچوں کی بہتری و فلاح کےلئے بھی حصہ رکھیں گے ،انجمن فیض الاسلام جیسے سماجی خدمت کے معتبر ادارے تمام افراد معاشرہ کی معاونت کے مستحق ہیں میری وزارت جائزہ لے گی کہ ہم اس ادارے کے ساتھ کیا اور کتنا تعاون کر سکتے ہیں ایف بی آر کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ فاروق نے کہا کہ اللہ تعالی نے جن لوگوں پر اپنی نعمتوں کا بے حساب نزول کر رکھا ہے ان پر بالخصوص اور عام لوگوں پر بالعموم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یتیم و لاوارث بچوں اور معاشرے کے دیگر محروم طبقات کا خیال رکھیں اور انہیں ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی میں معاونت دیں ۔ انہوں نے یتامی کی پرورش ، تعلیم و تربیت اور قومی تعمیر نو میں انجمن فیض الاسلام کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہماری معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔ قبل ازیں صدر انجمن محمد صدیق اکبر میاں نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں انجمن کی تاریخ کو مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1943 ءمیں بنگال میں پڑنے والے قحط اور فسادات کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بے شمار مسلمان بچوں میں سے 30 کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے حکم پر راولپنڈی لا کر انجمن فیض الاسلام کی بنیاد ڈالی گئی یہ ادارہ تب سے اب تک یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت بے احسن کر رہا ہے اور اب تک 80000 ( اسی ہزار ) سے اوپر ایسے بچوں کو معاشرے کا مفید شہری اور راسخ العقیدہ مسلمان بنا کر پروان چڑھا چکا ہے ، کم و بیش اس سے زیادہ یعنی ایک لاکھ سے اوپر بچے اب تک انجمن فیض الاسلام کے تعلیمی اداروں سے تعلیم پا کر عملی زندگی میں جا چکے ہیں جن میں پاک فوج کے افسران سمیت ہر شعبہ زندگی میں اعلی پوسٹوں تک پہنچنے والے بھی شامل ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ انجمن کے چھ مراکز ہیں اور ان میں تمام انتظام و انصرام محض مخیر لوگوں کے عطیات سے چلایا جا رہا ہے ۔ انجمن کو کسی بھی حکومت یا این جی او کی جانب کو کوئی مستقبل مالی سپورٹ نہیں ملتی ہم انجمن میں داخل بچوں کو اسلامی اور عام تعلیم کے علاوہ فنی تربیت بھی دیتے ہیں اور اس کے علاوہ قومی تعمیر نو میں با مقصد کردار کی ادائیگی کےلئے بے شمار پروگرام ہمارا ریگولر فیچر ہیں ۔

Leave a Reply