اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں ایسی تاریخی اور جرات مندانہ اصلاحات کی ہیں جن کی نہ صرف عالمی مالیاتی ادارے بلکہ دنیا بھر کے ماہرین تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں پیدا ہونے والی تقریباً 20 فیصد بجلی مہنگے درآمدی ایندھن سے بنتی ہے تاہم حکومت کی موثر پالیسیوں …
حکومت نے پاور سیکٹر میں تاریخی اصلاحات کی ہیں، عالمی مالیاتی ادارے اور ماہرین تعریف کر رہے ہیں، اویس احمد خان لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں ایسی تاریخی اور جرات مندانہ اصلاحات کی ہیں جن کی نہ صرف عالمی مالیاتی ادارے بلکہ دنیا بھر کے ماہرین تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں پیدا ہونے والی تقریباً 20 فیصد بجلی مہنگے درآمدی ایندھن سے بنتی ہے تاہم حکومت کی موثر پالیسیوں کے باعث اس انحصار میں نمایاں کمی لائی جا رہی ہے۔منگل کو سینٹ کے اجلاس میں نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر ریفارمز کو عالمی سطح پر ایک مثالی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بجلی کے شعبے میں جتنی ذمہ دارانہ اور انقلابی اصلاحات کی گئیں، اس کی مثال ماضی میں کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے سب سے پہلے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے معاہدوں پر نظرثانی کی، دبائو اور سفارش کو خاطر میں لائے بغیر قومی مفاد میں فیصلے کیے اور بڑے مالی فوائد حاصل کیے۔
انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں آئندہ چھ سے سات برسوں میں 3400 ارب روپے کا اضافی بوجھ ختم کیا گیا جو بصورت دیگر آئی پی پیز کو ادا ہونا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے 10 ہزار میگاواٹ مہنگی بجلی سسٹم میں شامل ہونے سے روک کر اگلے 20 سال میں 17 ارب امریکی ڈالر کے اضافی بوجھ سے قوم کو بچایا۔ اسی طرح تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی بہتر بنا کر ایک سال کے اندر 586 ارب روپے کے سالانہ بوجھ کو کم کر کے 397 ارب روپے تک لایا گیا جبکہ آئندہ تین سال میں لائن لاسز اور ریکوری کے مسائل مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف ہے۔نیٹ میٹرنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں کل بجلی صارفین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہے جن میں سے صرف چار لاکھ 66 ہزار کے قریب صارفین نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان صارفین نے تقریباً 7 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے جس میں سے بڑا حصہ چند صنعتی صارفین کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑ رہا تھا جو مستقبل میں بڑھ کر 500 ارب روپے تک جا سکتا تھا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نئی ریگولیشنز کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے۔ ان کے مطابق نیپرا کی جانب سے طے کردہ نئے نرخوں پر بھی نیٹ میٹرنگ ایک منافع بخش سرمایہ کاری رہے گی اور صارفین تین سے ساڑھے تین سال میں اپنی لاگت پوری کر سکتے ہیں جو بینکوں کے منافع سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسیز اور ریگولیشنز وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں تبدیلی بھی اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے 8 ہزار میگاواٹ تک سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سسٹم میں شامل کرنے کی گنجائش رکھی ہے اور یقین دلایا کہ نئی ریگولیشنز کے باوجود سولر انرجی میں اضافہ جاری رہے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں تقریباً 20 روپے فی یونٹ کمی کی ہے جبکہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو 40 فیصد اضافی رعایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات سرمایہ کار دوست، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور عام آدمی کے مفاد میں ہیں۔آخر میں اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت کو ان اصلاحات پر فخر ہے
کیونکہ ان فیصلوں کے ذریعے قومی وسائل کا تحفظ، بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔








