اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):حکو مت نے رسمی مالیات سے باہررہنے والے 93 فیصد چھوٹے کسانوں اور کاشتکاروں کیلئے زرخیز ای کے نام سے زرعی مالیات کا پروگرام شروع کر دیاہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ کسانوں کیلئے بلا ضمانت اور ڈیجیٹل طور پر فعال زرعی قرضہ سکیم ہے اور یہ سکیم ان 93 فیصد چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کیلئے شروع کی گئی ہے جو طویل عرصے سے رسمی …
حکومت نے چھوٹے کسانوں کے لیے ’’زرخیز ای ‘‘پروگرام کے ذریعے بلا ضمانت زرعی قرضہ سکیم کا آغاز کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):حکو مت نے رسمی مالیات سے باہررہنے والے 93 فیصد چھوٹے کسانوں اور کاشتکاروں کیلئے زرخیز ای کے نام سے زرعی مالیات کا پروگرام شروع کر دیاہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ کسانوں کیلئے بلا ضمانت اور ڈیجیٹل طور پر فعال زرعی قرضہ سکیم ہے اور یہ سکیم ان 93 فیصد چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کیلئے شروع کی گئی ہے جو طویل عرصے سے رسمی مالیاتی نظام سے باہر تھے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ کو ئی معمولی یا تدریجی نہیں بلکہ بنیادی اور ڈھانچہ جاتی تصحیح ہے۔اس پروگرام کے تحت ان 7 لاکھ 50 ہزارکسانوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائیگا جو پہلے اس نظام سے باہرتھے ۔
پروگرام کے تحت آئندہ تین برسوں میں دیہی معیشت میں 300 ارب روپے کا بہائو آئے گا،ان کسانوں کیلئے قرضہ کی فراہمی میں ضمانت کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاکہ قرض زمین کی ملکیت کے بجائے صلاحیت کی بنیاد پر دیا جائے اور سرخ فیتے کی جگہ ڈیجیٹل ایگرونومی، سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصدیق شدہ شناختی نظام لے سکیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں زرعی قرضوں کانظام تاریخی طور پر ایکو یٹی کے بجائے پیمانے کو ترجیح دیتا رہا ہے اور 7 فیصد کسان و کاشتکار مجموعی زرعی قرضوں کا 68 فیصد حصہ لے رہے تھے ، نئے پروگرام سے اس نظام کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس پروگرام میں وقار کے ساتھ مالیاتی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور اب کسانوں کو بلا ضمانت قرضے دئیے جائیں گے۔
مزارع کسانوں کے لیے 5 لاکھ روپے تک اور زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو مساوی علاقائی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے اور خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ و پنجاب کے محروم علاقے کے کسانوں کو یکساں طور پر یہ سہولت میسر ہوگی۔ پروگرام کے تحت کسانوں کو استحصالی آڑھتی قرضوں سے نجات دلائی جائے گی جس سے غربت میں کمی ہوگی، معیاری زرعی مداخل کی فراہمی کے ذریعہ زیادہ پیداوار کے ذریعے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائیگا۔
پروگرام کے تحت زندگی اور فصل کیلئے بیمہ کی سہولت میسر ہوگی۔وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ زرخیز ای محض ایک قرضہ سکیم نہیں بلکہ یہ مڈل مین سے کسانوں کی طرف اختیارات کی منتقلی ، غیر رسمی نظام سے مالی شمولیت اور بقاء سے خوشحالی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ترجمان نے بتایا کہ مضبوط اور خوشحال پاکستان کی منزل تب حاصل ہوگی جب چھوٹے کسان اور کاشتکار خوشحال ہوں گے۔








