اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعہ کو اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص اسلام آباد کی حدود میں ہاسٹلز میں مقیم ورکنگ ویمن کے تحفظ کے لیے متعدد سیکورٹی اور پولیسنگ نظام پہلے ہی موجود ہیں۔قومی اسمبلی میں رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی اور حُما اختر چغتائی کی جانب سے …
خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے،حکومت وژن اسلام آباد 2027متعارف کرائے گی،طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعہ کو اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص اسلام آباد کی حدود میں ہاسٹلز میں مقیم ورکنگ ویمن کے تحفظ کے لیے متعدد سیکورٹی اور پولیسنگ نظام پہلے ہی موجود ہیں۔قومی اسمبلی میں رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی اور حُما اختر چغتائی کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے 1815 ویمن سینسٹیو پولیس ہیلپ لائن، انسپکٹر جنرل پولیس کا علیحدہ کمپلینٹ سیل، خودمختار ایمرجنسی ہیلپ لائن، آن لائن پولیس اسٹیشنز اور صرف خواتین اہلکاروں پر مشتمل موبائل پولیس یونٹس فعال ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کی جانب سے کی جانے والی کالز خودکار طور پر خواتین پولیس افسران کو منتقل کی جاتی ہیں تاکہ بہتر رابطہ اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ پولیس اسٹیشنز میں قائم ویمن ڈیسک اور ’’پولیس اسٹیشن آن ویلز‘‘ کے نام سے موبائل پولیسنگ یونٹس بھی فوری مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں ہاسٹلز سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا، حالانکہ اسلام آباد کی آبادی دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھی ہے جس کے باعث ورکنگ ویمن کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ حکومت رواں ماہ کے آخر میں ’’وژن اسلام آباد 2027‘‘ پیش کرے گی جس میں آئندہ دو برسوں کے دوران وفاقی دارالحکومت کو محفوظ، جدید اور اسمارٹ شہر بنانے کا لائحہ عمل شامل ہوگا۔ اس و ژن میں ارکان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو بھی شریک کیا جائے گا۔








