درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیاں اور خارجہ امور پر عدالتی مداخلت نہیں ہو سکتی، ہائیکورٹس آرٹیکل 199 کے تحت ازخود اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں،وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی فیصلہ

وفاقی آ ئینی عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیاں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی دائرہ اختیار میں آتے ہیں

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):وفاقی آ ئینی عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیاں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی دائرہ اختیار میں آتے ہیں جن میں عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس (سُو موٹو) اختیار حاصل نہیں۔تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بنچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے، نے سی پی ایل اے نمبر 1505 اور 1506 آف 2024 میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔مقدمہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 927(I)/2019 سے متعلق تھا جس کے تحت بھارت اور اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا ءکو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ پابندیاں امپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کا حصہ بھی بنائی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ درآمدات، تجارتی پالیسی اور خارجہ امور سے متعلق فیصلے آئینی طور پر وفاقی حکومت کے اختیار میں آتے ہیں اور ان میں ہائیکورٹس کی جانب سے مداخلت آئین میں طے شدہ اختیارات کی تقسیم کے منافی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اگرچہ پالیسی کو مجموعی طور پر آئینی قرار دیا تھا تاہم درخواست گزاروں کی شکایات کے ازالے کے لئے وزارت تجارت کو افسر مقرر کرنے کی ہدایت دی تھی جو اس کے دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تجارتی پابندیاں اور درآمدی فیصلے ریاست کی معاشی اور خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں جن میں عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔دوسری جانب درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پابندیوں سے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تاہم عدالت نے اس استدلال کو حکومتی پالیسی کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی قانون کے تحت حکومت پر شکایات کے ازالے کے لئے علیحدہ انتظامی فورم قائم کرنے کی لازمی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اس لئے ہائیکورٹ کی اس نوعیت کی ہدایات برقرار نہیں رہ سکتیں۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کے متعلقہ پیراگراف کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارت اور اسرائیل سے متعلق درآمدی پابندیوں کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا۔

مزید خبریں