اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نئی وہیکل پالیسی کے تحت پاکستان جلد ہی الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مینوفیکچرنگ حب ہو گا اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کر سکے گا، دسمبر 2020ءمیں کم از کم 38 الیکٹرک گاڑیاں وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں پر ہوں گی، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، اب پاکستان میں …
دسمبر 2020ءمیں کم از کم 38 الیکٹرک گاڑیاں وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں پر چلنا شروع ہو جائیں گی، وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نئی وہیکل پالیسی کے تحت پاکستان جلد ہی الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مینوفیکچرنگ حب ہو گا اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کر سکے گا، دسمبر 2020ءمیں کم از کم 38 الیکٹرک گاڑیاں وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں پر ہوں گی، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، اب پاکستان میں الیکٹرک بسوں کی مینوفیکچرنگ ہو گی، اسلام، لاہور اور کراچی میں جلد ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک ٹیکنالوجی میں منتقل کیا جائے گا، اس کے علاوہ اگلے چھ ماہ میں موٹرویز میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کیلئے سی ڈی اے، کراچی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور پہلے مرحلے میں 100 کے قریب الیکٹرک بسیں درآمد کی جائیں گی، اگلے چار پانچ سالوں میں الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں 2 سے 4 بلین ڈالرز سرمایہ کاری متوقع ہے، یونیورسٹی کے طلبہ نے پہلی مرتبہ تین ٹائروں والی الیکٹرک گاڑی تیار کی ہے اور اب ہم پاکستانی یونیورسٹیوں کو مارکیٹ سے منسلک کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر سائنس نے کہا کہ پاکستان پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کر رہا ہے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو انسینٹیوز دیئے جا رہے ہیں جو کہ اچھی علامت ہے، دوست ماحول گاڑیاں ملک میں خاطرخواہ ترقی کا سبب بنیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے اور اگلے دو سے تین سالوں کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ میں پاکستان بھارت کے ساتھ مقابلہ کرے گا، گزشتہ 13 ماہ سے حکومت نے پاکستان میں نئی الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے انتھک محنت کی جبکہ اس کے علاوہ کوویڈ19 بحران کے دوران مقامی سطح پر طبی آلات تیار کئے گئے اور عالمی مارکیٹ اس کا بڑا حصہ ہے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حال ہی میں فیصل آباد میں میڈیکل ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ زون بنایا گیا ہے اور اس کی تکمیل کے بعد اگلا مرحلہ سیالکوٹ سے شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب انجیکشنز، کینولے، ایکسرے مشینیں، سٹینٹس اور ڈایئلاسزمشینیں تیار کر رہا ہے اور ملک کو ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کی دوست ماحول کاروباری پالیسیوں کی بدولت یورپ اور چین کی نامور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔








