دودھ دینے والے جانوروں کو متوازن خوراک دیکر دودھ و گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،ڈائریکٹر لائیو سٹاک

فیصل آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):دودھ دینے والے جانوروں کیلئے سال بھر متوازن خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیساتھ ساتھ منہ کھر اوردوسرے امراض کی ویکسی نیشن سے ان کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تاہم بیرون ممالک سے دودھ دینے والے جانوروں کی درآمد کے باعث ان کی بیماریوں سے مقامی جانوروں کی صحت کوبعض نئے چیلنجز کا سامنا ہے جس کیلئے …

فیصل آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):دودھ دینے والے جانوروں کیلئے سال بھر متوازن خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیساتھ ساتھ منہ کھر اوردوسرے امراض کی ویکسی نیشن سے ان کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تاہم بیرون ممالک سے دودھ دینے والے جانوروں کی درآمد کے باعث ان کی بیماریوں سے مقامی جانوروں کی صحت کوبعض نئے چیلنجز کا سامنا ہے جس کیلئے ماہرین صحت کو اپنا کردار مزید ذمہ داری سے ادا کرنا ہوگا۔

ڈائریکٹر محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل آبادڈاکٹرندیم بدرنے کہا کہ پاکستان میں تمام معاشی شعبہ جات زراعت و لائیو سٹاک کے گرد گھومتے ہیں اور پیداوار میں فی ایکڑ زمین اور فی جانور اضافہ پوری معیشت کیلئے توانائی کا باعث بنتا ہے لہٰذا فصلات اور جانوروں کے امراض پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ان کیلئے متوازن خوراک کا اہتمام کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دیہی آبادی کو ایک طرف زرعی منافع میں کمی کا سامنا ہے تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے غذائی استحکام کا ہدف بھی انہی کی مرہون منت ہے جس کیلئے مقامی سطح پر سہولیات کا اہتمام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہرین لائیو سٹاک نے دودھ دینے والے جانوروں میں مس ٹائی ٹس کی بروقت جانکاری کیلئے سرف ٹیسٹ اور ویکسین،زخم سے جلد نجات کیلئے پائیوڈین سے مؤ ثر فارمولا، کمفورٹڈ آئل، فائٹوتھراپی اور دوسری ٹیکنالوجیز متعارف کروائی ہیں جنہیں نچلی سطح پر عام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں فی جانور دودھ کی پیداوار انتہائی کم ہے جس کیلئے جانور کی خوراک میں بہتری اور بیماری کی بروقت تشخیص و علاج یقینی بنانا ہوگی تاکہ صحت مند جانورسے دودھ کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ دودھ دینے والے 8کروڑ60 لاکھ کے قریب جانوروں میں سے نصف سے بھی کم کو منہ کھرویکسین تک رسائی حاصل ہے لہٰذا اس کی کوریج بڑھانے کیلئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر منہ کھر ویکسین کی تیاری کیلئے ماہرین کو اپنے تجربات و مشاہدات کے تبادلے کو رواج دینا چاہئے تاکہ مربوط انداز میں پیش رفت کی جا سکے۔