دو ہزار پچاس تک اسلام امریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا, رپورٹ

واشنگٹن ۔ 26 جون(اے پی پی) امریکہ مختلف النوع مسلمان برادریوں کا مسکن ہے، جن کی عمریں، نسل اور آمدن سب مختلف ہیں۔ باوجود اِس بات کے کہ اسلام دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے، امریکہ کی مجموعی بالغ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ وائس آف امریکا کے مطابق 2014 میں 'پیو رسرچ سینٹر' کی جانب سے کیے گئے ایک مطالعے …

واشنگٹن ۔ 26 جون(اے پی پی) امریکہ مختلف النوع مسلمان برادریوں کا مسکن ہے، جن کی عمریں، نسل اور آمدن سب مختلف ہیں۔ باوجود اِس بات کے کہ اسلام دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے، امریکہ کی مجموعی بالغ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ وائس آف امریکا کے مطابق 2014 میں ‘پیو رسرچ سینٹر’ کی جانب سے کیے گئے ایک مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ آئندہ 3 عشروں کے دوران، یعنی 2050ء تک یہ شرح دوگنی ہوجائے گی، جب اسلام امریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا۔امریکہ کے جغرافیائی رقبے کے لحاظ سے مسلمانوں کی آبادی ہر جگہ یکساں شرح سے موجود ہے۔ تاہم، نیوجرسی میں ان کی سب سے زیادہ شرح، یعنی 3 فی صد ہے؛ جب کہ واشنگٹن ڈی سی میں اِن کی تعداد 2 فی صد ہے۔دستیاب تمام اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ آبادی کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے، چونکہ باقی تارکین وطن کی طرح، اس عمر میں لوگ ایک مذہب ترک کرکے دوسرا اختیار کرتے ہیں۔

Leave a Reply