لاہور۔29جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کے پتوں کا جراثیمی جھلسائو ایک خطرناک بیماری ہے ،صوبے کے بعض علاقوں میں دھان کی اگیتی فصل پراس بیماری کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ پتوں پر اس بیماری کی علامات سفید/پیلی نمدار دھاری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اور یہ پتے کی نوک اور …
دھان کے پتوں کا جراثیمی جھلسائو خطرناک بیماری ہے،محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کیا جائے،ترجمان

مزید خبریں
لاہور۔29جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کے پتوں کا جراثیمی جھلسائو ایک خطرناک بیماری ہے ،صوبے کے بعض علاقوں میں دھان کی اگیتی فصل پراس بیماری کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ پتوں پر اس بیماری کی علامات سفید/پیلی نمدار دھاری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اور یہ پتے کی نوک اور کناروں سے شروع ہو کر لمبائی اور چوڑائی میں بڑھتی ہے، جب بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے تو پتے سے دودھیا مادے خارج ہوتے دکھائی دیتے ہیں اوربیماری سے بری طرح متاثرہ پتے تیزی سے خشک ہو کر گل سڑ جاتے اور آخرکار مر جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیماری دھان کی فصل میں ایک بیکٹیریا (زینتھوموناس اورائزی)کی وجہ سے ہوتی ہے، یہ بیکٹیریا جڑی بوٹیوں اور دھان کے مڈھوں پر رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری سے متاثرہ بیج بھی بیماری پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں، درمیانہ درجہ حرارت ،زیادہ نمی کے ساتھ بارش اور دھان کے کھیتوں میں گہرا پانی اس بیماری کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور زخمی پودوں پر بیماری کے حملے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیز ہوا سے بھی بیماری کھیت میں پھیلتی ہے، مزید براں،بہت زیادہ نائٹروجنی کھاد کا استعمال بیماری کو بڑھاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس بیماری سے بچائو کےلئے پتا لپیٹ سنڈی، دیگر سنڈیوں اور ٹڈوں کے حملے کو روکا جائے۔ کھالوں اور وٹوں کو صاف رکھاجائے اور ان میں جڑی بوٹیاں نہ اگنے دی جائیں کیونکہ جڑی بوٹیوں کے کم ہونے سے پتوں کو زخمی کرنے والے ٹڈوں کی تعداد بھی کم ہو گی۔اس کے علاوہ پانی کی سطح کو 3 انچ سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے اور کھیت کے متاثرہ حصے سے صحت مند فصل کی طرف بھی پانی کے بہائو کو روکاجائے۔بیماری سے متاثرہ چھوٹی ٹکڑیوں اور ان کے ہمراہ آدھے میٹر کے گھیرے میں موجود صحت مندپودوں کو کاٹ کر کھیت سے دوردفن کر دیا جائے۔
اس کے علاوہ محکمہ زراعت پنجاب(توسیع یا پیسٹ وارننگ) کے مقامی عملہ کے مشورہ سیکاپر آکسی کلورائیڈ بحساب 3 گرام فی لیٹر پانی یا بورڈو مسکچر کا سپرے کیا جائے اور اس سپرے کوضرورت کے پیش نظر ہفتہ کے وقفے سے دہرایا جائے۔








