اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو لاہور میں داتا دربار کے باہر دھماکے کی جونہی اطلاع ملی، انہوں نے حکومت پنجاب سے فوراً اس کی تفصیلات طلب کیں ، انہوں نے اس کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار کیا ،حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کا اس حوالے سے …
دہشتگردی کی باقیات کو ختم کرنا وزیر اعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو لاہور میں داتا دربار کے باہر دھماکے کی جونہی اطلاع ملی، انہوں نے حکومت پنجاب سے فوراً اس کی تفصیلات طلب کیں ، انہوں نے اس کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار کیا ،حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کا اس حوالے سے موقف ہے کہ امن، بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام مزار اور گلیوں کی آرام گاہوں سے آتا ہے، اس قسم کے واقعات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سنسر کی جڑیں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں صاف کی گئیں اور ان کا قلع قمع کیا گیا لیکن کہیں نہ کہیں ابھی تک ان کے باقیات ہیں اور ہمیںان کا خاتمہ کرنا ہے، دہشتگردی کی ان باقیات میں تضاد ڈالنا اور ان کے سنسرز کو ختم کرنا وزیر اعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کے دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں لیکن پاکستانی قوم، بہادر افواج، رینجرز پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے قربانیاں دی ہیں۔ نجی ٹی وی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جونہی وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں یہ بات آئی انہوں نے اس کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار کیا ۔انھوںنے کہا کہ واقعہ میں شہید ہونے والے پنجاب پولیس کے اہلکار ہیں اور وہ قوم پر قربان ہوئے ، وہ دھرتی کے بیٹے ہیں، انہوں نے اپنا قرض چکایا ہے، ہمیں ساری پولیس کے رویے کو نشانہ نہیں بنانا ،ہمیں زخمیوں اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی، شہداء کے لئے اور زخمیوں کے لئے دعائیں کرنی ہیں اور جہاں کمی بیشی ہے حکومت کہیں پر بھی اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی، اس صورتحال کو وزیر اعلی پنجاب خود مانیٹر کر رہے ہیں میری ان سے بات ہوئی ہے اور ہماری پوری فورس اسی تیز رفتاری اور چابق دستی سے باہر آئے گی، وزیر اعلی کا اس حوالے ابتدائی ردعمل دینا ضروری نہیں ہے۔








