اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن ہے اور دونوں ملک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔سرحد کے دونوں اطراف دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے موثر بارڈر منیجمنٹ ضروری ہے۔الزام تراشیاں کسی مسئلے کا حل نہیں۔دشمن افغانستان کی اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت …
دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن ہے جس سے دونوں ملک متاثر ہو رہے ہیں، دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن ہے اور دونوں ملک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔سرحد کے دونوں اطراف دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے موثر بارڈر منیجمنٹ ضروری ہے۔الزام تراشیاں کسی مسئلے کا حل نہیں۔دشمن افغانستان کی اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ایکو سربراہ اجلاس میں اعلی سطح پر تمام رکن ملکوں نے شرکت کی تصدیق کی ہے۔اجلاس یکم مارچ کو اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔سربراہ اجلاس سے قبل رکن ممالک کے وزراءخارجہ اور سنیئر حکام کا اجلاس منعقد ہو گا۔دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہیں۔اس سلسلے میں وزیر اعظم نے پوری طاقت کیساتھ دہشت گردوں سے نمٹنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔








