رانا تنویر حسین کی جرمن ہم منصب سے ملاقات، زرعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے جرمن وفاقی وزیر برائے زراعت، خوراک اور علاقائی شناخت ایلوئیس رائنر سے جرمنی میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور جرمنی کے درمیان زرعی اور مویشیوں کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے زرعی طریقوں، فوڈ سیکیورٹی اور پائیدار ترقی کو بہتر …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے جرمن وفاقی وزیر برائے زراعت، خوراک اور علاقائی شناخت ایلوئیس رائنر سے جرمنی میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور جرمنی کے درمیان زرعی اور مویشیوں کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے زرعی طریقوں، فوڈ سیکیورٹی اور پائیدار ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان کے جرمنی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر زرعی اور مویشیوں کے شعبوں میں جو فوڈ سیکیورٹی، دیہی معیشتوں اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، اور مویشیوں کا شعبہ ایک اہم حصہ ہے جو لاکھوں دیہی گھرانوں کو آمدنی اور فوڈ سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں وزراء نے زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار زرعی طریقوں میں جرمنی کی عالمی قیادت کو تسلیم کیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا کہ ہم جرمنی کی مہارت سے استفادہ اور خاص طور پر مویشیوں کی کراس بریڈنگ ، فوڈ سیفٹی، جانوروں کی صحت اور موسمیاتی زراعت کے شعبوں میں جرمنی کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دونوں وزراء نے زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے، وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ وفاقی وزیر نے مویشیوں اور دودھ کی پیداوار کے شعبے میں تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا، جس میں جینیاتی بہتری، وٹرنری سروسز اور دودھ و گوشت کی ویلیو چینز کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

ملاقات میں زرعی اور مویشیوں کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن، پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پاکستانی زرعی اور مویشیوں کے مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے۔ دونوں وزراء نے کسانوں اور زرعی پیشہ ور افراد کے لیے تکنیکی تربیت اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعے صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔

رانا تنویر حسین نے جرمنی کے جاری ترقیاتی تعاون کی تعریف کی اور پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم مشترکہ پروگرامز اور پائلٹ منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جو دیہی علاقوں میں چھوٹے کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کو فائدہ پہنچائیں۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی اور مویشیوں کے شعبے میں خاص طور پر زرعی کاروبار اور توانائی کے تجدیدی حل میں عوامی اور نجی شراکت داریوں کے ذریعے نجی شعبے کے کردار پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کی زرعی ترقی اور لچک کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے اور دونوں ممالک کو فائدہ پہنچائیں گے۔ دونوں وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عالمی سطح پر مشترکہ اہداف اور خاص طور پر خوراک کی سیکیورٹی، غربت میں کمی اور موسمیاتی لچک سے متعلق اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز ) کی تکمیل کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

رانا تنویر حسین نے جرمنی کی طرف سے پاکستان کی زراعت کے لیے موسمیاتی لچک اور پانی کے انتظام میں کی جانے والی معاونت کو تسلیم کیا اور اس کو جاری تعاون کا ایک اہم جزو قرار دیا۔ انہوں نے جرمنی کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون مزید بڑھتا رہے گا جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

ملاقات کا اختتام دونوں رہنماؤں کی طرف سے زراعت اور مویشیوں کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کے مزید استحکام کو خوش آئندقرر دیا اور کہا کہ یہ تعاون کسانوں، صارفین اور قومی معیشت کے لیے مفید ثابت ہوگا۔