راوی ڈویلپمنٹ ایکٹ پاس کر کے حکومت نے لاہور کے لیے اہم منصوبہ بندی کی ہے‘وزیر قانون پنجاب کی پریس کانفرنس

لاہور۔2دسمبر (اے پی پی):وزیر قانون و کوآپریٹوز پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ گذشتہ ڈھائی سال میں پنجاب اسمبلی نے 68 بل پاس کر کے ریکارڈ قانون سازی کی ہے جبکہ مقابلے میں صرف 33 آرڈیننس لاگو کیے جو گڈ گورننس کی بہترین مثال ہے۔ وہ بدھ کے روز معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے محکمہ قانون کی کارکردگی بیان …

لاہور۔2دسمبر (اے پی پی):وزیر قانون و کوآپریٹوز پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ گذشتہ ڈھائی سال میں پنجاب اسمبلی نے 68 بل پاس کر کے ریکارڈ قانون سازی کی ہے جبکہ مقابلے میں صرف 33 آرڈیننس لاگو کیے جو گڈ گورننس کی بہترین مثال ہے۔ وہ بدھ کے روز معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے محکمہ قانون کی کارکردگی بیان کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خواہش تھی کہ صوبہ میں رفاہ عامہ کے لیے فرسودہ قوانین کو اپ گریڈ کیا جائے چنانچہ ہم وزیر اعلیٰ کے اسی ویژن کو لیکر چلے اور ایک بڑی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے ریکارڈ قانون سازی کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اٹھارہویں صدی کے قوانین کو بھی جان بوجھ کر تبدیل نہیں کیا جبکہ ہم نے کوآپریٹوز اور جیل کے صدیوں پرانے قوانین آپ ڈیٹ کیا اور یہ عمل جاری رکھا ہوا ہے راجہ بشارت نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا مکمل تعاون اور حوصلہ افزائی بھی ہمیں حاصل تھی. وزیر قانون نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کی جمہوری سوچ نے حکومت کو اعتماد دیا یہی وجہ ہے کہ رولز آف پروسیجر میں ترامیم کی گئی ہ، سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو فعال نہیں کیا گیا تھا سپیکر کے اعتماد کے بعد ان کمیٹیوں کو بھی بااختیار اورفعال بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 لایا گیا اور اسے پاس کرایا گیا جو وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے ویژن کا مظہر ہے۔سرکار سرمایہ کاری کو قانونی تحفظ دینے کے لیے پنجاب پبلک پرائیوٹ ایکٹ پاس کیا گ. فیٹیف کے حوالے سے بھی قانون سازی کی گئی. شوگر ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سانوں کا مطالبہ تھا شوگر ملز کو پابند کریں اور گنے کی کرشنگ بروقت شروع کرنے اورکاشت کاروں کو بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ہے. راوی ڈویلپمنٹ ایکٹ پاس کر کے حکومت نے لاہور کے لیے اہم منصوبہ بندی کی ہے. مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے بھی قوانین پاس کیے گئے ہیں.راجہ بشارت نے کہا کہ نئی قانون سازی کے لیے محکمہ قانون اورپنجاب اسمبلی میں قائم ریسرچ سنٹر قائم کیے جا رہے ہیں.انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن نے ہمیشہ اپنے مفادات کو عوام کے مفاد پر ترجیح دی اور قانون سازی میں مثبت رویہ نہیں دکھایا۔