رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اور ینگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے آگاہی سیمینار،مقررین کا ذمہ دارانہ صحافت، سائبر تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے فروغ پرزور

رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی راولپنڈی میں رفاہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ،اوریک کے تعاون اور ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل صحافت کے موضوعات پر ایک اہم آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا

راولپنڈی۔19جون (اے پی پی):رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی راولپنڈی میں رفاہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ،اوریک کے تعاون اور ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل صحافت کے موضوعات پر ایک اہم آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں تعلیمی ماہرین، صحافیوں، طلبہ، میڈیا پروفیشنلز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کا مقصد نوجوان نسل اور نئے آنے والے صحافیوں میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر تحفظ، ڈیجیٹل میڈیا کے رجحانات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا تاکہ انہیں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔اس موقع پر ماہر سائبر سیکورٹی سید نجیب الحسن نے "How to Prevent Yourself from Cybercrime” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سائبر جرائم کی نوعیت مسلسل پیچیدہ ہو رہی ہے، اس لیے عوام کو آن لائن سرگرمیوں میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری مضبوط پاس ورڈز، دوہری تصدیقی نظام (Two-Factor Authentication)، ذاتی معلومات کے تحفظ اور غیر مصدقہ لنکس سے اجتناب کے ذریعے خود کو سائبر حملوں اور آن لائن فراڈ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے "Hack the Hacker: Cyber Hygiene for All” کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے سائبر ہائی جین بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فونز، کمپیوٹرز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال سے متعدد سائبر خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔سینئر صحافی عامر سعید عباسی نے اپنے خطاب میں میڈیا کے بدلتے ہوئے رجحانات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر روشنی ڈالی جبکہ پی ٹی وی نیوز کی اینکر ماہ ور قریشی نے "Digital Journalism and Challenges” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل صحافت نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے تاہم فیک نیوز، معلومات کی تصدیق اور صحافتی اخلاقیات جیسے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے صحافیوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ ہونا ہوگا۔اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد عمار نے "AI Literacy for Everyone: Why Understanding AI Matters in Every Field” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا اثر اب صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، میڈیا، صحت، کاروبار اور دیگر شعبوں میں بھی نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ AI کے بنیادی تصورات سے آگاہی ہر فرد کی ضرورت بن چکی ہے۔اسی طرح ڈاکٹر زبیر نے "Building Trust in the Digital Age: The Role of AI, Cybersecurity and Journalism” اور "Safeguarding Society in the Age of AI-Driven Information” کے موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں درست معلومات کی فراہمی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا معاشرتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔سیمینار میں ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف خان، چیئرمین ملک زبیر اعوان، سیکرٹری کوآرڈینیشن انیلا بشیر سمیت دیگر اراکین وانیہ، قدسیہ عباسی، ارسلان لون اور راجا رخصار احمد،عریبہ سلیم نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف خان نے کہا کہ تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد نئے آنے والے صحافیوں کو پیشہ ورانہ رہنمائی، تربیت اور جدید صحافتی تقاضوں سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا شعبہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور نوجوان صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ روایتی صحافت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔انہوں نے کہا کہ تنظیم مستقبل میں بھی ایسے تربیتی اور آگاہی پروگرامز کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گی۔چیئرمین ملک زبیر اعوان نے کہا کہ ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد انہیں پیشہ ورانہ ماحول، تربیتی مواقع اور سیکھنے کے بہتر ذرائع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ وقت کا اہم تقاضا ہے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں ذمہ دارانہ صحافت، سائبر تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا جبکہ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید علوم اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔اس موقع پر ریفا ریڈیو اسٹیشن کے انچارج عرفان بھٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اس دور میں نوجوان نسل کو معلومات کے درست استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ سے آراستہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور تعلیمی اداروں کے درمیان ایسے مشترکہ اقدامات نہ صرف طلبہ بلکہ نوجوان صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوان صحافیوں کو جدید میڈیا ٹرینڈز، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ذمہ دارانہ اور مؤثر صحافت کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔سیمینار کے اختتام پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام مقررین کو ان کی علمی و پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں جبکہ سیمینار میں شریک تمام شرکاء میں شرکت کے سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

مزید خبریں