اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران عالمی خراب معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مالی سال کے دوران برآمدات کا مجموعی حجم 15.6 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 15.1 ارب ڈالر تھا۔ جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اقتصادی جائزہ 2019-20ءکے مطابق پاکستان کی برآمدات مشکل عالمی معاشی حالات …
رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران عالمی خراب معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں 3.6 فیصد کا اضافہ،اقتصادی جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران عالمی خراب معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مالی سال کے دوران برآمدات کا مجموعی حجم 15.6 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 15.1 ارب ڈالر تھا۔ جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اقتصادی جائزہ 2019-20ءکے مطابق پاکستان کی برآمدات مشکل عالمی معاشی حالات کے باوجود اپنے بیشتر حریفوں کی نسبت بہتر رہی، مالی سال 2020ءکے جولائی تا فروری برآمدات 15.6 بلین امریکی ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 15.1 بلین امریکی ڈالر تھیں۔ اس میں 3.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے دوران برآمدات 18.4 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو کہ گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 19.2 بلین ڈالر تھیں جس میں 3.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ COVID-19 کی وجہ سے اوورسیز مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کی گرتی ہوئی مانگ کے ساتھ موجودہ آرڈرز کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سالانہ بنیاد پر برآمدات اپریل کے ماہ میں 54.2 فیصد کم ہو کر 957 ملین امریکی ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 2089 بلین امریکی ڈالر تھی۔ گروپ کے لحاظ سے برآمدات کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل میں فوڈ گروپ میں 1.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل گروپ 2.8 فیصد پٹرولیم گروپ میں 40.4 فیصد اور دیگر مینوفیکچرز گروپ میں 8.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل میں درآمدات 38 بلین امریکی ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال کے مماثل عرصے میں 45.4 ملین امریکی ڈالر رہیں جس میں 16.2 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ڈپرس انڈسٹریل مال کی وجہ سے درآمدات کی کوانٹم میں کمی ہوئی جس کو گرتی ہوئی بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں نے مزید سہارا دیا جس میں خاص کر خام تیل، ایل این جی، کوئلہ اور دھات شامل ہیں۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے عرصے میں گروپ کے لحاظ سے پٹرولیم، ٹرانسپورٹ، زرعی، خوراک، ٹیکسٹائل، مشینری دھات سب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارکیٹ بیس ایکسچینج ریٹ سسٹم کے نفاذ کے ساتھ ساتھ قبل از اپنائے گئے۔ مالی سال 2020ءمینجمنٹ پالیسیوں کی وجہ سے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 71 فیصد کم ہو کر 3.3 بلین امریکی (جی ڈی پی کا 1.3 فیصد) رہیں جبکہ گزشتہ سال یہ 11.4 بلین امریکی ڈالر تھیں (جی ڈی پی کا 4.1 فیصد) بہتری بنیادی طور پر درآمدات سے ہوئی ہے۔ معاشی استحکام کے اقدامات تیل کی قیمتوں میں کمی اور توانائی کے شعبے کو فرنس آئل بیس سے ہٹانا ، درآمدات میں کمی کی وجہ بنی جو کہ 16.9 فیصد کم رہیں۔ مالی سال 2020ءمیں جولائی تا اپریل کے عرصے میں تجارتی خسارہ 29.5 فیصد کمی کے ساتھ 16.4 بلین امریکی ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 23.3 بلین امریکی ڈالر تھا۔ مالی سال 2020ءمیں جولائی تا اپریل کے دوران خدمات میں 7.6 فیصد کمی واقع ہوئی جو 4.7 بلین امریکی ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال یہ 5.1 بلین امریکی ڈالر تھا۔ وبائی مرض COVID-19 کی وجہ عالمی معیشت کو لاک ڈاﺅن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور دنیا بھر میں سفر اور سیاحت پر پابندی عائد ہے۔ مالی سال 2020ءمیں جولائی تا اپریل کے دوران خدمات کی درآمد میں 18.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گزشتہ سال کے 9.0 بلین ڈالر کے مقابلے میں 7.3 بلین امریکی ڈالر رہے۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل میں خدمات میں تجارت کا توازن 33.4 فیصد کم ہو کر 2.6 بلین امریکی ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.9 بلین ڈالر تھیں۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے عرصے میں انکم اکاﺅنٹ بیلنس میں 4.8 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 4.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچا۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے دوران ترسیلات زر میں 5.5 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور 18.8 بلین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال یہ 17.8 بلین ڈالر رہا۔ پاکستان چونکہ تیل درآمد کرتا ہے تو عالمی تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں جو کہ عالمی معاشی سست روی کی وجہ سے ہے جس نے پاکستان کو بہت فائدہ دیا۔ مہنگائی میں کمی کے علاوہ اس سے درآمدی بل میں اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو آسانی سے نفاذ کیا جا سکتا ہے جو کہ اس طرح ادائیگی کے توازن میں بہتری آئے گی۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے عرصہ میں خالص بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 126.8 فیصد اضافہ کے ساتھ 2.3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچا جبکہ خالص FPI کا بیرونی اخراج 0.42 بلین ڈالر تک پہنچا۔ وباءکی وجہ سے تمام بڑی اسٹاک مارکیٹ میں مندی رہی اور بہت کیپیٹل آﺅٹ فلو کا خطرہ ہے۔ اپریل 2020ءکے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18.7 بلین ڈالر رہے۔ مرکزی بینک (SBP) کے پاس موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر 12.3 بلین ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 6.4 بلین ڈالر تھے۔ مالی سال 2020ءکے جولائی تا اپریل کے دوران اوسط شرح مبادلہ ڈالر کے مقابلے میں 157.1 روپے رہی۔








